بُرا گمان
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۴
(رواہ الحاکم عن ابی ھریرۃ)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب میں اپنے کسی مومن بندے کو کسی مصیبت میں مبتلا کروں اور وہ اس پر صبر کرے اور آنے جانے والوں سے اس کی شکایت نہ کرے تو میں اس کو اپنی قید سے آزاد کر دیتا ہوں۔ پھر میں اس کے گوشت کو دوسرے بہتر گوشت سے بدل دیتا ہوں اور اس کے خون کو دوسرے بہتر خون سے بدل دیتا ہوں۔ پھر وہ نئے نئے کام کرنے لگتا ہے ۔ ایک آدمی وہ ہے جو ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ دوسرا وہ ہے جو کوئی شخص خود اپنے آپ کو بناتا ہے۔ پہلا آدمی روایتی آدمی ہے۔ وہ خاندان اور ماحول کے زیر اثر کام کرتا ہے۔ مگر دوسرا آدمی ایک ارتقا یافتہ آدمی ہے۔ وہ ایک ایسا آدمی ہے جس کے اندر عظیم انقلاب برپا ہو چکا ہے ۔
یہ نیا آدمی کس طرح بنتا ہے۔ یہ نیا آدمی حالات کے درمیان بنتا ہے ۔ موجودہ دنیا میں آدمی پر طرح طرح کے ناموافق حالات پیش آتے ہیں ۔ ان ناموافق حالات میں آدمی جو رد عمل پیش کرتا ہے اسی سے یہ متعین ہوتا ہے کہ کوئی آدمی کیسا آدمی بنے گا۔ ایک رد عمل یہ ہے کہ ناموافق حالات آدمی کے اندر شکایت کی نفسیات پیدا کریں۔ وہ ان کے خلاف لوگوں سے شکایت اور احتجاج کرنے لگے۔ ایسے آدمی کی شخصیت کبھی ارتقا نہیں کر سکتی۔ وہ جہاں ہے وہیں پڑی رہے گی ۔
دوسرا آدمی وہ ہے جو مصیبتوں پر صبر کرتا ہے ۔ ناموافق حالات اس کے سکون کو برہم نہیں کرتے۔ دوسروں کے ظلم سے اس کے اندر نفرت کا جذبہ نہیں بھڑکتا۔ حالات کی شدت اس کے اندر جھنجھلاہٹ پیدا نہیں کرتی۔ ایسے آدمی کا حال یہ ہوگا کہ ناموافق حالات میں پڑنے کے بعد اس کے اندرونی شخصیت ابھر آئے گی۔ اس کا صبر اس کو ایک ارتقا یافتہ انسان بنا دے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues