سرّشقائنا فینا
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۲
کرنے کا ان کو خیال بھی نہیں آتا ، خدا کے لیے اس طریقہ کو بدلیے ورنہ حالات بد سے بد تر ہوتے رہیں گے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ ہم پر ظلم نہیں ہورہا ہے ۔ ظلم ہورہا ہے۔ میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ یہ ظلم اس ظلم کے نتیجہ میں ہورہا ہے جو ہم اپنے اوپر کر رہے ہیں۔ اگر ہم کسی اعتبار سے ظالم نہ ہوتے ، صرف مظلوم ہی ہوتے تو اللہ کی مدد آچکی ہوتی اور ہم پر ظلم کرنے والوں پر اللہ کی پکڑ آگئی ہوتی ۔ ایک اور ظلم ہم اپنے اوپر یہ کر رہے ہیں کہ ہم جہاں رہتے ہیں وہاں کے لوگوں کو اپنا حریف اور دشمن سمجھ کر رہتے ہیں ، بجائے اس کے کہ ہم ان کو اللہ کا بندہ سمجھتے اور محبت و حکمت اور اخلاق کے ساتھ ان کو اللہ کی رحمت سے اور ہدایت سے اور جنت سے قریب کرنے کی کوشش کرتے “ (صفحہ ۱۹- ۲۱)
ندوۃ العلماء (لکھنؤ) سے ایک عربی پر چہ نکلتا ہے جس کا نام الرائد ہے ۔ اس پرچہ کے شمارہ ۱- ۱۶ ستمبر ۱۹۷۸ء میں ایک مضمون چھپا ہے جس کا عنوان ہے: سرشقائنا فينا (ہماری بدبختی کا راز ہمارے اندر ہے) اس مضمون میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کی تمام مصیبتوں کی جڑ ان کی اپنی اخلاقی گراوٹ ہے ۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے : ان المسلمين فقدوا سيرتهم المثالية ..... فلو تصدى ای شخص للمعتود على الرذائل الخلقية كلها مجتمعة في امة لوجد افراد هذه الامة خير مثال لها على اختلاف الاجناس والالوان ( صفحه ۳)
اس عربی عبارت کا اردو ترجمہ خود ندوہ ہی کے دوسرے جریدہ تعمیر حیات (۲۵ اکتوبر ۱۹۸۷ صفحہ ۷) میں ان الفاظ میں چھپا ہے:
"اگر کوئی شخص تمام اخلاقی برائیوں کو یکجا طور پر دیکھنا چاہے تو اس کو سب سے واضح اور نمایاں مثال مسلمانوں ہی کی زندگی میں ملے گی ۔ رنگ ، نسل ، زبان اور علاقہ کے لحاظ سے ان میں خواہ کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو ، لیکن برائیوں کے قبول کرنے میں غیر معمولی اتفاق نظر آتا ہے! اسی بات کو مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نے ان لفظوں میں بیان فرمایا : " مسلمانوں کی دنیوی مصائب و آفات اور عزت و دولت اور حکومت وغیرہ سے محرومی بھی ان کے برے اعمال کے نتائج اور تعلیمات قرآن و حدیث سے غفلت اور اعراض کے ثمرات ہیں “ (تعمیر حیات ۲۵ اکتوبر ۱۹۷۸ء)
‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues