یہ فرق
الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۹
یہ فرق
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو یہ تعلیم دی کہ اپنے مخالفوں سے کہو کہ میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہوں اور تم نے اس کو جھٹلا دیا ( قل انی علی بینة من ربی وكذ بتم به ، الانعام ، ۵۷) اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر اس دنیا میں دلیل کی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے ، اس کے برحق ہونے کا ثبوت واضح دلیل ہوتی ہے نہ کہ محض ادعار۔ دوسری طرف قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ : اور کفر کرنے والوں نے کہا کہ اس قرآن کو نہ سنو اور اس میں خلل ڈالو تاکہ تم غالب آجاؤ ( وقال الذین کفروا لا تسمعوا لهذا القرآن والغوافيه لعلكم تغلبون ، حم السجده ۲۶) اس آیت کی تفسیر میں حسب ذیل روایت آتی ہے : قال الضحاک عن ابن عباس (والغوافيه) ضحاک راوی ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس عيبوه (تفسیر ابن کثیر) نے کہا کہ والغوافيه کا مطلب یہ ہے کہ اس کو عیب لگاؤ۔
جو لوگ کسی بات کو دلیل سے رد نہ کر پائیں اور وہ اس کو ماننے کے لیے بھی تیار نہ ہوں ، تو اس کے بعد وہ تعییب کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ یعنی طرح طرح کے عیب لگا کر اس کو بدنام کرنا۔ پیغمبروں کے مخالفین ہر زمانہ میں اپنے پیغمبروں کے ساتھ ایسا ہی کرتے رہے ہیں۔ کہنے والے کے الفاظ کو اگر کمی بیشی کے بغیر اس کی اصلی صورت میں نقل کیا جائے اور پھر اس کو عقلی یا نقلی دلیل سے رد کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ تنقید ہے ، اور تنقید عین جائزہ ہے ۔ لیکن اگر کہنے والے کے الفاظ کو اس کی اصلی صورت میں نقل کیے بغیر اس پر بے دلیل مخالفت نہ یہ مارک دیا جائے تو یہ تعییب ہے ، اور تعییب سراسر ناجائز ہے۔
جب ایک شخص دلیل کی زبان میں کلام کرے ، اور اس کے مخالفین اس کے برعکس عیب جوئی اور الزام تراشی کی زبان بول رہے ہوں تو یہ فرق اس بات کا ثبوت ہے کہ شخص مذکور بلاشبہ حق پر ہے اور اس کے مخالفین بلاشبہ ناحق پر۔ کیوں کہ قرآن کے مطابق دلیل کی زبان پیغمبروں کی زبان ہے ۔ اور عیب جوئی کی زبان اہل کفر کی زبان ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues