No Airport tax here, that's only in India.
الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۲۸
اسی قسم کا ایک واقعہ جنیوا سے واپسی کے وقت ۱۰ دسمبر کو پیش آیا۔ روانگی کے وقت میں نے ہوٹل انٹر کانٹینٹل (جنیوا) کے ریسپشن پر پوچھا کہ کیا یہاں سے جانے والے مسافروں پر کوئی ایرپورٹ ٹیکس ہے۔ ریسپشن کے آدمی نے مسکرا کر جواب دیا :
No Airport tax here, that's only in India.
اگرچہ ایسا نہیں کہ ایرپورٹ ٹیکس صرف ہندوستان میں ہو، مگر ریسپشنسٹ نے جس معنی میں یہ بات کہی وہ صرف اس برصغیر کی خصوصیت ہے جس کا مجموعی نام ہندوستان رہا ہے۔ دعوت نامہ کے ساتھ "جنرل انفارمیشن" کے جو کاغذات آئے تھے ۔ ان میں دوسری باتوں کے ساتھ ایک ہدایت ان الفاظ میں درج تھی :
Please remember to bring a warm coat as you know Geneva in December can be rather cold. یعنی براہ کرم ایک گرم کوٹ لانا یاد رکھیے، کیوں کہ آپ جانتے ہیں کہ جنیوا دسمبر میں کافی ٹھنڈا ہو سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ اس بات کی آگاہی تھی کہ آپ "گرم ملک" سے نکل کر "سرد ملک" میں جا رہے ہیں ۔ اس ہدایت کو میں نے پڑھا تو مجھے یاد آیا کہ اسی قسم کی سخت تر آگاہی وہ ہے جو ہر روز موت کے ذریعہ دی جا رہی ہے۔ موت ہر انسان کو خاموش زبان میں بتاتی ہے کہ تم بہت جلد "اپنی دنیا" سے نکل کر "خدا کی دنیا" میں داخل ہونے والے ہو۔ پہلے انتباہ پر ہر آدمی چوکنا ہو جاتا ہے، مگر دوسرے انتباہ پر کوئی چوکنا ہونے والا نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی صورت میں آدمی گرم ملک اور سرد ملک دونوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ جب کہ دوسری صورت کا معاملہ یہ ہے کہ اپنی دنیا تو ہر آدمی کو براہ راست دکھائی دے رہی ہے، اور خدا کی دنیا کسی کو براہ راست دکھائی نہیں دیتی ۔ ایک مسلمان سے اس سفر کا ذکر ہوا۔ انھوں نے کہا کہ آپ جنیوا جا رہے ہیں، جنیوا میں تو مسلمانوں نے ایک زمانہ میں حکومت کی ہے " میں نے کہا کہ ایسا تو نہیں ہے ۔ انھوں نے کہا کہ میں نے حال میں ایک کتاب میں اس کو پڑھا ہے ۔
اس کے بعد وہ ڈاکٹر افضل اقبال (سابق پاکستانی سفیر) کی کتاب لائے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues