Al-Risala · February 1987 · page 30

Sicily for a time acknowledged the Fatimid

الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۳۰

رہے ہیں ۔

اسی کا نام لہجےکا فرق ہے ۔ ہر گروہ کا لہجہ الگ الگ ہوتا ہے ۔ اس لیے الفاظ کی ادائیگی میں ایک اور دوسرے کے درمیان فرق ہو جاتا ہے ۔ اسی ایک لفظ کو کوئی جرمن کہتا ہے ، کوئی جومن ، کوئی جمن ۔ مگر معنوی اعتبار سے سب کی مراد ایک ہوتی ہے ۔ اسی کی روشنی میں اس حدیث کا مطلب سمجھا جا سکتا ہے جس میں آیا ہے کہ قرآن سات حرفوں میں اترا ہے ۔ یہاں "سات" سے مراد تعدد ہے ۔ یعنی الفاظ کی ادائیگی (لہجہ) کے اعتبار سے قرات قرآن کے کئی طریقے ہیں ۔ یہ حدیث دراصل اسلام کی عالم گیریت کو بتاتی ہے ۔ اس ارشاد سے رسول اللہ کا مطلب یہ تھا کہ اسلام صرف مذہبی پیشواؤں (کلرجی) کا مذہب نہ ہوگا اور نہ وہ کسی ایک قوم میں محدود رہے گا ۔ وہ عمومی سطح پر پھیلے گا اور مختلف قبیلے اور قومیں اس کو قبول کریں گی ۔ اس لیے بالکل قدرتی بات ہے کہ لہجات کے اختلاف کی وجہ سے اس کی ادائیگی کے کئی طریقے ہو جائیں ۔

لندن سے جنیوا کا سفر برٹش ایرویز کی فلائٹ نمبر ۴۲۴ کے ذریعہ ہوا ۔ جہاز میں مشہور ہفتہ وار اکانومسٹ (The Economist) کا شمارہ ۶ دسمبر ۱۹۸۹ء پڑھا ۔ اس میں ایک مضمون ایران ۔ عراق کے مسئلہ کے بارے میں تھا ۔ ایڈیٹر نے مختلف وجوہ بتاتے ہوئے لکھا تھا کہ ایران کا مسئلہ مغرب کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے ۔ ایران کے مقابلہ میں عراق کی انسانی طاقت صرف ایک تہائی ہے ۔ اس لیے یہ بظاہر نا ممکن ہے کہ عراق اس جنگ سے فاتح ہو کر نکلے ۔ مزید یہ کہ جنگ ہمیشہ نہیں رہ سکتی ۔ وہ کبھی نہ کبھی ختم ہوگی ۔ آنے والے وقت کے پیش نظر مغرب کو ضرورت ہے کہ وہ ایران کے بارہ میں اپنی پالیسی پر ٹھنڈے طریقہ سے غور کرے :

That is why the west needs to be thinking coolly about an Iran policy. زندہ لوگ دشمنی کے ساتھ دوستی کرنا بھی جانتے ہیں ۔ جب کہ مردہ لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب وہ ایک رخ پر چل پڑیں تو اس سے پھرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہوتا ۔ جہاز کے اندر برٹش ایرویز کا ماہانہ میگزین ہائی لائف (Highlife) تھا ۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues

Printed page