ہر ایک کی کہانی
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۸، صفحہ ۸
ہر ایک کی کہانی
فیجی ایک چھوٹا سا ملک ہے جو بحر الکاہل کے جنوبی حصہ میں واقع ہے ۔ ۱۹۷۰ میں وہ برطانی قبضہ سے آزاد ہوا۔ اس کی راجدھانی سوا (Suva) ہے۔ یہاں تقریباً ۵۰ فی صد ہندوستانی نسل کے لوگ ں جو کہ برطانی قبضہ کے دور میں ہندوستان سے جاکر وہاں آباد ہوئے ۔ ۱۱ اپریل ۱۹۸۷ کو فیجی میں الیکشن ہوا۔ اس الیکشن کے نتیجہ میں وہاں نئی حکومت بنی ۔ اس حکومت کے وزیر اعظم تموکی باودرا (Timoci Bavadra) تھے ۔ نئی حکومت میں چوں کہ ہندوستانی نسل کے لوگوں کا غلبہ تھا، فیجی نسل کے لوگوں نے اس کے خلاف مظاہرے کیے ۔ انھوں نے اس کو فیجی میں چھوٹا ہندوستان (Little India) قائم کرنے کا نام دیا۔ اس کے جواب میں وزیر اعظم باودرا نے نہایت پر اعتماد بیان دیا۔ انھوں نے کہا : I am in control. I will remain in control. معاملات پوری طرح میرے قبضہ میں ہیں اور وہ بدستور میرے قبضہ میں رہیں گے (ٹائمز آف انڈیا ۱۵ مئی ۱۹۸۷) مگر اس اعلان کے صرف چند دن بعد ۱۴ مئی ۱۹۸۷ کو فیجی میں فوجی انقلاب آگیا۔ ۳۸ سالہ لفٹنٹ کرنل رابو کا (Sitiveni Rabuka) دس مسلح فوجیوں کے ساتھ پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل ہوئے اور منتخب وزیر اعظم کو ان کے ۲۷ ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا اور ایک ٹرک پر بٹھا کر نامعلوم منزل کی طرف روانہ کر دیا۔ کرنل رابو کا نے، اسالہ دستور کو معطل کر دیا اور خود اپنے بنائے ہوئے دستور کے مطابق فیجی پر اپنی حکومت کا اعلان کر دیا ۔
وزیر اعظم تموکی باودرا کی کہانی ہر انسان کی کہانی ہی ہے۔ جس آدمی کو بھی یہاں کچھ مواقع ملتے ہیں وہ سمجھ لیتا ہے کہ سب کچھ میرے قبضہ میں ہے، کوئی مجھے بے دخل کرنے والا نہیں ۔ مگر جلد ہی خدا کا قانون ظاہر ہوتا ہے اور وہ تنکے کی طرح نکال کر پھینک دیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ اس دنیا میں ہر روز ہو رہا ہے۔ مگر ہر آدمی اس کو صرف اخبار کی خبر سمجھتا ہے، کوئی نہیں جو اس کو اپنی زندگی کی خبر سمجھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1988 All issues