Al-Risala · March 1988 · page 38

He used to criticise the government openly

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۸، صفحہ ۳۸

پیدا ہوتے ۔ وہ دوسری جنگِ عظیم کے وقت مڈل اسکول کے طالبِ علم تھے۔

ان سے انگریزی میں گفتگو ہوئی ۔ میں نے کہا کہ جاپانیوں کے بارہ میں مجھے سب سے زیادہ عجیب چیز ان کی تبدیلی کی صلاحیت معلوم ہوتی ہے۔ یہی ان کی ترقی کا راز ہے۔ دوسری جنگِ عظیم تک وہ بالکل جنگ جو قوم تھے۔ دوسری جنگِ م کے خاتمہ پر اچانک وہ پر امن قوم بن کر تسلیم اور سائنس کے میدان میں سرگرم ہو گئے ۔ جاپانیوں میں اس صلاحیت کا سرچشمہ کیا ہے۔ انھوں نے اس کا سبب جاپانی جغرافیہ کو قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ جاپان میں سال میں چار موسم ہوتے ہمیں۔ اس کی وجہ سے ہیں بار بار اپنے آپ کو بدلنا پڑتا ہے۔ جاپان میں کثرت سے زلزلے اور طوفان آتے ہیں اس لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم ہر وقت نئی صورت سے مطابقت کرنے کے لئے تیار رہیں ۔ اسی کا یہ نتیجہ بھی ہے کہ جاپانی لوگ نئی باتوں کو جاننے کے لئے بے حد تجسس رہتے ہیں : Japanese are very curious to know new things, new ideas جاپانی قوم کی اسی صلاحیت کا نتیجہ تھا کہ جنگِ عظیم کی بر بادی کے بعد ان کے اندر شدت سے نئی سوچ ابھری ۔ انھوں نے سابقہ روش کو ترک کر کے نئے حالات کے مطابق دوسری روش اختیار کر لی ۔ میں سوچا کہ یہ فرق بھی کتنا عجیب ہے۔ ایک قوم کے لئے اس کے " زلزلے " ترقی کا زینہ بن جاتے ہیں ، اور دوسری قوم کے " زلزلے " اس کو صرف فریاد و ماتم کی غذا دے رہے ہیں۔ مسٹر شُو گو کٹا کور اسے دوسری بار ۔ ۱۰ دسمبر کو ملاقات ہوئی تو میں نے خدا اور مذہب کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی۔ انھوں نے اپنا کارڈ دیا جس میں ان کا حسب ذیل پتہ لکھا ہوا تھا : Shogo Katakura, 33, Udagawa-Cho, Shibuya-Ku Tokyo 150, Japan. Phone 81-3-4622221 وہ پیدائشی طور پر بدھسٹ ہیں۔ مگر خدا اور مذہب کے بارہ میں زیادہ یقین نہیں رکھتے۔ زندگی بعدِ موت کے بارہ میں مشتبہ ہیں۔ میں نے کہا کہ ایک برطانوی مصنف نے لکھا ہے کہ جاپان کی جدید نسل کے اندر میٹریلزم سے بے اعتمادی پیدا ہورہی ہے ، وہ کہہ رہے ہیں ہمارا کلچر تو صرف مرچنٹ کلچر ہے ، زندگی کے لئے صرف اتنا ہی کافی نہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ صحیح ہے۔ انھوں نے بتایا کہ دوسری جنگ کے بعد جاپان میں زندگی بہت

‹ Previous page Next page › Contents of March 1988 All issues

Printed page