ذہنیت کا فرق
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۸، صفحہ ۱۴
ہیں، اور اگر اتفاق سے دوسری قوم کا آدمی جیت جائے تو غم سے نڈھال ہوا جاتے ہیں ۔ یہ صحت مند ذہنیت نہیں، یہ مریضانہ ذہنیت ہے۔ جن لوگوں کا یہ مزاج ہو وہ کبھی کوئی اعلیٰ کامیابی حاصل نہیں کر سکتے ۔ ان کے اندر قومی خود غرضی تو خوب ترقی کرے گی، مگر ان کے درمیان سائنٹفک مزاج کبھی ترقی نہیں کر سکتا ۔ وہ مزاج جس کا ایک نمونہ موجودہ زمانہ میں جاپان نے پیش کیا ہے۔ یعنی یہ کہ آدمی قوم پسند یا فرقہ پسند نہ ہو بلکہ وہ معیار پسند ہو۔ جن لوگوں کے اندر یہ صفت ہو، وہ جب کوئی کام کرتے ہیں تو ان کی ساری توجہ معیار (Quality) پر ہوتی ہے۔ وہ اپنا کام اس طرح کرتے ہیں کہ اس کے بارے میں وہ اعلیٰ معیار سے کم تر کسی چیز پر راضی نہیں ہوتے۔
جاپانیوں کی یہی خصوصیت ہے جس کی بنا پر ان کے لیے یہ ممکن ہو کہ وہ اپنی مصنوعات کو نقص بدرجہ صفر (Zero-defect) کے درجہ تک پہنچا سکیں ۔ اور اپنے بڑھے ہوئے معیار کی بنا پر ساری دنیا کی مارکیٹ پر قبضہ کر لیں ۔
اسرائیل کے قیام سے پہلے کی بات ہے، ایک مسلم پہلوان اور ایک یہودی پہلوان میں کشتی کا مقابلہ ہوا۔ اس مقابلہ میں مسلمان کامیاب رہا ۔ اس نے یہودی پہلوان کو نٹوں کے اندر گرا دیا۔ بظاہر یہودی پہلوان کے لیے یہ بڑی ذلت کی بات تھی ۔ مگر اس نے فوراً اٹھ کر مسلم پہلوان کو گلے سے لگا لیا۔ اس نے کہا : میں تمہاری ذات کی نہیں بلکہ تمہارے فن کی قدر کرتا ہوں۔ تم نے جس فن کاری کے ساتھ مجھے گرایا ہے وہ اتنا اعلیٰ ہے کہ میں نے اس کا تصور بھی نہیں کیا تھا ۔
کسی قوم میں اسپورٹس مین اسپرٹ کا ہونا یا نہ ہونا کوئی جزئی بات نہیں۔ اس کا تعلق اس قوم کے پورے کردار سے ہے ۔ اس کا ظہور زندگی کے تمام معاملات میں ہوتا ہے۔ ایک نوعیت کا ذہن آدمی کو اپنے حریف سے صرف نفرت کرنا سکھاتا ہے۔ حریف کی خوبیاں بھی اس کو برائی کی صورت میں نظر آتی ہیں ۔ یہ چیز اس کو ہر اعتبار سے پست کر دار بنا دیتی ہے۔ اس کے برعکس دوسرا مزاج آدمی کو معیار پسند بناتا ہے اس سے آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔ اس کے اندر ایک ایسا انسان ابھرتا ہے جس کے لیے دشمن کا عمل بھی مفید سبق حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1988 All issues