اجنبی دین
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۸، صفحہ ۱۷
اجنبی دین
عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسلم۔ بدأ الاسلام غریباً وسیعودُ كما بدأ نے فرمایا ۔ اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا ، اور وہ پھر ویسا ہی ہو جائے گا جیسا کہ شروع ہوا تھا۔
تو ایسے اجنبیوں کو مبارک ہو ۔
وعن عمرو بن عوف قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ حضرت عمرو بن عوف کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ علیہ وسلم۔ إن الدین بد أخريباً وسيعود وسلم نے فرمایا۔ دین شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا ، كما بدأ أطوبي للغرباء۔ وهم الذين اور وہ پھر ویسا ہی ہو جائے گا جیسا کہ شروع میں يُصْلِحُونَ ما أفسدَ الناسُ من بعدي من تھا ۔ تو اجنبیوں کو مبارک کی ہو۔ یہی لوگ ہیں جو سُنّتی ( رواہ الترمذی ) اس بگاڑ کی اصلاح کریں گے جو میرے بعد میری سنت میں لوگ کریں گے ۔
آدمی جب کوئی چیز کھاتا ہے تو اس کو اس کے مزہ کا احساس ہوتا ہے ـــــــــ نمکین ، میٹھا کھٹا، کڑوا ، وغیرہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی کی زبان میں مختلف قسم کے ذائقہ خانے (Taste buds) ہیں۔ کھانے کے دوران جب کوئی چیز ان ذائقہ خانوں کو چھوتی ہے تو نازک تاروں کے ذریعہ ان کی خبر دماغ تک پہنچتی ہے۔ اس طرح آدمی جان لیتا ہے کہ وہ جو چیز کھا رہا ہے اس کا ذائقہ کیا ہے۔ زبان کے یہ ذائقہ خانے اگر اپنی فطری حالت میں ہوں تو ایسے آدمی کو چیزوں کا صحیح ذائقہ (True taste) ملے گا اور اگر کوئی شخص اپنے ذائقہ خانوں کو ان کی اصلی حالت میں محفوظ نہ رکھ سکے تو اس کو غلط ذائقہ (False taste) ملنے لگے گا ۔
بگاڑ کے زمانہ میں ایسا ہوتا ہے کہ خدا اور رسول والا دین گم ہو جاتا ہے اور دین کی دوسری دوسری شکلیں رایج ہو جاتی ہیں۔ مثلاً قومی دین ، برکت والا دین ، رسم و رواج والا دین ، آبائی فخر والا دین ، لوگ دین کی انھیں خود ساختہ شکلوں سے مانوس ہوتے ہیں۔ چنانچہ وہ خدا اور رسول والے دین کو اجنبی سمجھ کر اس کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1988 All issues