Al-Risala · May 1988 · page 9

Their presence is going to be a great

الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۹

اس کے برعکس مثال امریکہ کے ایشیائی امریکی گروہ کی ہے۔ انھوں نے اپنے مسئلہ کا حل یہ دریافت کیا کہ وہ اس کی ساری ذمہ داری خود قبول کریں۔ وہ اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہوں۔ اور آخری حد تک پر امن رہتے ہوئے دوسروں سے زیادہ محنت کریں۔ ان کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس طرح عمل کرنے کے نتیجہ میں ان کا مسئلہ مکمل طور پر حل ہو گیا ، بلکہ انھوں نے اپنے عددی تناسب سے زیادہ بڑا حصہ اپنے لیے پا لیا۔

منفی رویہ اختیار کرنا گویا اپنے مسئلہ کا بوجھ دوسرے کے سر پر ڈالنا ہے ، اور مثبت رویہ کا مطلب اپنے مسئلہ کی ذمہ داری خود قبول کرنا۔ اس لیے مثبت رویہ اختیار کرنے کا مزید فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگ سماج میں کوئی پیچیدگی پیدا کرنے کا سبب نہیں بنتے ۔ چنانچہ ایشیائی امریکیوں نے جب مثبت انداز سے اپنے مسئلہ کو حل کرنے کی راہ نکالی تو وہ امریکی سماج میں مزید مساندوں کو ظہور میں لانے کا ذریعہ بن گئے ۔

اول یہ کہ انھوں نے امریکی نوجوانوں کے درمیان مسقت الہ و مسابقت کی فضا پیدا کی۔ وہ امریکی نوجوان جو اپنے کو محفوظ سمجھ کر محنت میں کمی کرنے لگے تھے ، ان کے اندر یہ جذبہ ابھر آیا کہ اگر انھیں زندہ رہنا ہے اور ترقی کرنا ہے تو ان کو بھی ایشیائیوں کی طرح زیادہ محنت کرنی پڑے گی ۔ ٹائم کی رپورٹ کے مطابق ، خود امریکی دانشوروں کو اعتراف کرنا پڑا کہ ایشیائی امریکیوں نے ہمارے نوجوانوں کی سستی کو ختم کر کے ان کو از سر نو چست بنا دیا ہے۔ ہمارے سماج میں ان کی موجودگی ہمارے لیے ایک عظیم رحمت ہے:

Their presence is going to be a great

اسپان (دسمبر ۱۹۸۷) کی رپورٹ کے مطابق ، نیویارک کے ایک درمیانی عمر کے آدمی نے کہا کہ ایشیائی امریکیوں کے لیے خدا کا شکر یہ ، وہ ہمارے اسکولوں میں دوبارہ معیار کو واپس لا رہے ہیں :

Thank God for the Asians. They're bringing back

‹ Previous page Next page › Contents of May 1988 All issues

Printed page