مثبت شعور کی ضرورت
الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۴۳
آدمی کے اندر انتظار کی طاقت پیدا ہوتی ہے ۔ اور یہی دونوں چیزیں زندگی میں فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں۔ سنجیدگی آدمی کو حقیقی اور درست رائے قائم کرنے میں مدد دیتی ہے اور انتظار کی طاقت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کر وہ بے فائدہ قسم کے عاجلانہ اقدام سے بچتا رہے ۔ یہاں تک کہ وہ محفوظ طور پر اپنی منزل تک پہنچ جائے ۔
مثبت شعور کی ضرورت
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر ناموافق صورت حال میں ایک موافق امکان چھپا ہوا ہوتا ہے ۔ یہ ایک ایسا کلیہ ہے جس میں کوئی استثناء نہیں۔ خدا کی اس دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں کہ آدمی کو صرف ناموافق حالات گھرے ہوئے ہوں ۔ اور کوئی موافق امکان اس کے لیے سرے سے موجود نہ ہو ۔
مگر اس موافق پہلو کو پانے اور اس کو استعمال کرنے کے لیے مثبت شعور کی ضرورت ہے ۔ جب آدمی کسی ناموافق صورت حال میں گھیر جائے تو عام طور پر وہ اس سے اتنا متاثر ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے قریبی حالات سے اوپر اٹھ کر سوچ نہیں پاتا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ناموافق حالات بیشتر آدمیوں کو صرف ایک ہی تحفہ دیتے ہیں اور وہ ہے رد عمل میں مبتلا ہو جانا ۔ جب آدمی رد عمل کی نفسیات میں مبتلا ہو جائے تو وہ اپنے حالات سے صرف مایوسی اور نفرت کی غذا لے گا ۔ وہ اس سے کبھی مثبت فکر کی عندا نہیں لے سکتا ۔
ناموافق حالات میں چھپے ہوئے موافق امکان کو جاننے اور اس کو استعمال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی قریبی حالات سے الگ ہو کر سوچ سکے ۔ وہ اپنے آپ کو فکری اعتبار سے اس مقام پر لے جائے جہاں وہ غیر متاثر ذہن کے ساتھ رائے قائم کرنے کی پوزیشن میں ہو ۔
آدمی ہر تاریکی میں روشنی پا سکتا ہے ۔ وہ ہر ناموافق صورت حال میں اپنے لیے ایک موافق پہلو ڈھونڈ سکتا ہے ۔ مگر شرط یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو حقیقت پسند بنائے۔ وہ جھنجھلاہٹ کی نفسیات سے دور رہے ۔ وہ دشمن کو بھی غیر دشمن کی نظر سے دیکھے ۔ وہ اپنے آپ سے الگ ہو کہ اپنے آپ کو پڑھ سکے ۔ اسی کا نام مثبت طرز فکر ہے اور اس دنیا میں بلاشبہ مثبت طرز فکر ہی کے اندر تمام کامیابیوں اور ترقیوں کا راز چھپا ہوا ہے ۔