تنقید اور عملی کارروائی
الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۲
تنقید اور عملی کارروائی
ایک صاحب نے کہا کہ آپ دوسروں پر تنقید کرتے ہیں۔ اس سے امت میں تفریق پیدا ہوتی ہے۔ حالاں کہ آپ خود لکھ چکے ہیں کہ حضرت موسیٰ کی غیر موجودگی میں جب بنی اسرائیل بچھڑے کو پوجنے لگے تو حضرت ہارون نے خاموشی اختیار کر لی ۔ تذکیر القرآن میں آپ نے لکھا ہے کہ بہت سے مواقع پر دین کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ باہمی لڑائی سے بچنے کے لیے خاموشی کا طریقہ اختیار کر لیا جائے، حتی کہ شرک جیسے معاملہ میں بھی (حصہ دوم صفحہ 87 میں نے کہا کہ آپ نے میری بات کو غلط صورت میں نقل کیا۔ میں نے جو بات لکھی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت ہارون نے بنی اسرائیل کی گمراہی پر لسانی اظہار تو پوری طرح کیا، مگر جب وہ اصلاح قبول کرنے پر راضی نہ ہوئے تو ان کے خلاف عملی کارروائی نہیں کی۔ گویا فکری تنقید تو ہر حال میں ضروری ہے۔ البتہ عملی اقدام حالات کے لحاظ سے کیا جائے گا۔ متعلقہ آیات کے سلسلہ میں یہاں صفوة التفاسير محمد علی الصابونی سے دو حوالے نقل کیے جاتے ہیں:
(قال ابن اُمِّ ان القوم استضعفونی وکادوا ہارون نے کہا کہ اے میری ماں کے بیٹے، قوم یقتلونی)، ای ان القوم استضعفونی و قهرونی نے مجھ کو دبا لیا اور قریب تھا کہ مجھ کو مار ڈالیں" و قاربوا قتلی حين نهيتهم عن ذالك فانا یعنی قوم نے مجھ کو کمزور سمجھا اور مجھ پر غالب آگئی لم اقصر في نصحهم اور میرے قتل کے قریب ہو گئی جب کہ میں نے ( المجلد الاول ، صفحه ۴۷۴ ) ان کو اس سے روکا۔ پس میں نے نصیحت میں کوتاہی نہیں کی۔
(انی خشیت ان تقول فرقت بين بنی " مجھے ڈر تھا کہ تم کہو گے کہ تم نے بنی اسرائیل اسرائیل)، ای انی خفت ان زجرتهم کے درمیان پھوٹ ڈال دی" یعنی مجھے بالقوة ان يقع قتال بينهم اندیشہ ہوا کہ اگر میں انھیں طاقت سے روکوں المجلد الثانی ، صفحه ۲۴۵ تو ان کے درمیان جنگ برپا ہو جائے گی تفریق امت سے بچنا ضروری ہے، مگر اس کا اعتبار عملی احتساب میں کیا جائے گا نہ کہ نظری احتساب میں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues