Al-Risala · June 1988 · page 5

جوش بغیر ہوش

الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۵

جوش بغیر ہوش

میکی ٹامسن (Mickey Thompson) امریکہ میں پیدا ہوا۔ اس نے کار کی ریس میں عالمی شہرت حاصل کی۔ حتیٰ کہ وہ شاہ رفتار (Speed King) کہا جانے لگا۔ مگر مارچ ۱۹۸۸ میں اس کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ بوقتِ وفات اس کی عمر ۵۹ سال تھی ۔ میکی ٹامسن بے حد جرأت مند آدمی تھا۔ نومبر ۱۹۸۷ میں اس نے اپنے دوستوں کو لاس اینجیلیز میں بتایا تھا کہ کچھ بے ہودہ لوگ اس کو ٹیلی فون پر مار ڈالنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ اس کے دوست ارنی الواراڈو (Ernie Alvarado) نے کہا کہ میکی نے مجھ کو بتایا تھا کہ وہ جانتا ہے کہ کون شخص اس کو قتل کرنا چاہتا ہے۔ دوست نے پوچھا کہ کیا تم نے اس کی اطلاع پولیس کو کی ہے ۔ میکی نے جواب دیا ؛ اس کی کوئی ضرورت نہیں ۔

مگر میکی غلطی پر تھا، شروع مارچ ۱۹۸۸ کی ایک صبح کو اپنی اہم سالہ بیوی ٹروڈی (Trudy) کے ساتھ وہ بریڈ بری (کیلی فورنیا) میں گھر سے اپنے آفس کے لیے جار ہا تھا کہ دو آدمی بائیسکل پر آئے اور اس پر بندوق سے حملہ کر دیا۔ ٹروڈی مایوسانہ طور پر کہتی رہی کہ ــــــــــ نہ مارو ، نہ مارو (Don't shoot, don't shoot) مگر گولیوں کی بوچھاڑ نے چند منٹ کے اندر دونوں کا خاتمہ کر دیا۔ میکی نے ۱۹۶۰ میں ۴۰۰ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے کار چلا کر پہلے امریکی کا ٹائٹل حاصل کیا تھا یہ سفر اس نے ایک خاص موٹر کار کے ذریعہ طے کیا تھا جس میں چار انجن لگے ہوئے تھے۔ ہفتہ وار ٹائم (۲۸ مارچ ۱۹۸۸) نے اس حادثہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ خطرہ کی پروا نہ کرنا جس نے یکی ٹامسن کو تیز رفتاری کا بادشاہ بنایا خود وہی اس کے لیے موت کا ذریعہ بن گیا ؛

The disregard for danger that marked Thompson's driving career may have led to his death in his own front yard (12). بہادری اور بے خوفی بہت اچھی چیز ہے۔ مگر انسان بہر حال کمزور ہے ، وہ مطلق بہادری یا لا محدود بے خوفی کا تحمّل نہیں کر سکتا ۔ اس لیے بہادری اور بے خوفی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی محتاط ہو ۔ وہ حکمت اور مصلحت کا لحاظ کرنا بھی جانے ۔ غیر حکیمانہ چھلانگ بھی اتنی ہی غلط ہے جتنا کہ بزدلانہ پسپائی ۵ الرّساله جون ۱۹۸۸

‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues

Printed page