ہر قسم کے مواقع
الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۸
ضلع حسن (کرناٹک) میں ایک گاؤں ہے جس کا نام تھپر گڑھ ہے۔ یہاں ایک شخص لچھ نائک نامی تھا جو ایک جھونپڑے میں رہتا تھا، اور چوکیداری کا کام کرتا تھا۔ اس کے چار بچے تھے۔ اس نے طے کیا کہ وہ اپنی تین لڑکیوں کو دیوی چندیشوری پر بھینٹ چڑھادے۔ ۲۳ اپریل ۱۹۸۸ کو وہ دیوی کی مورت لے کر آیا۔ اس کی پوجا کی اور اس کے بعد اپنی تین لڑکیوں (ڈیڑھ سال، تین سال، تیرہ سال) کو درانتی سے ذبح کر دیا۔ اس کے لڑکے راج کمار (۸ سال) نے مزاحمت کرنی چاہی تو اس پر بھی حملہ کر دیا جس کے نتیجہ میں اس کا دایاں ہاتھ کٹ گیا۔ اس مجنونانہ حرکت کے بعد وہ بھاگ کر باہر چلا گیا ۔ چار دن بعد اس کی لاش آم کے ایک اکیلے درخت سے لٹکی ہوئی پائی گئی۔
مذکورہ خطلی کی بیوی علی تھما (۳۵ سال) کو چیف منسٹر ریلیف فنڈ سے ۵ ہزار روپیہ دیا گیا ہے ۔ انڈین ریڈ کراس سوسائٹی نے اس کو ایک ہزار روپیہ دیا ہے۔ اب وہ اپنے لڑکے کے مستقبل کے بارہ میں منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ اس کے بچے کو تعلیم حاصل کرنا چاہیے وہ اس کے لیے تیار ہے کہ بیٹے کی تعلیم کے لیے اگر اس کو ساری زندگی کام کرنا پڑے تو وہ ساری زندگی اس کے لیے کام کرے گی۔ اس کو بیوہ کی حیثیت سے ۵۰ روپیہ ماہوار پنشن ملنے کی امید ہے۔ تقریباً اتنی ہی ماہانہ رقم اس کے بیٹے کو معذوری کے وظیفہ کے طور پر ملے گی۔ راج کمار جس کے دائیں ہاتھ کی پانچوں انگلیاں کٹ چکی ہیں، اب اپنے بائیں ہاتھ سے لکھنا سیکھ رہا ہے (ٹائمز آف انڈیا ۲۸ اپریل ۱۹۸۸)
علی تھما کا سب کچھ لٹ چکا تھا۔ اب بظاہر یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ بھی خودکشی کرلے، یا اپنے بیٹے کو لے کر رونے اور ماتم کرنے میں مشغول ہوجائے۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس نے سب کچھ بھلا کر مثبت عمل کا منصوبہ بنایا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اپنے معذور بیٹے کے مستقبل کی تعمیر کی صورت میں اس نے اپنے لیے ایک مقصد پالیا۔
با مقصد آدمی کبھی محروم نہیں ہوتا، اس دنیا میں محروم وہ ہے جو مقصد سے محروم ہوجائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues