رد و قبول معیار
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۸، صفحہ ۵
رد و قبول معیار
ہر آدمی کے سامنے رد و قبول کا ایک معیار ہوتا ہے۔ اسی کے مطابق کبھی وہ ایک چیز کو لیتا ہے، اور اسی کے مطابق وہ دوسری چیز کو چھوڑ دیتا ہے۔ مثلاً ایک تاجر کا معیار تجارتی فائدہ ہے۔ وہ اس معاملہ کی طرف جھک جائے گا جس میں تجارتی فائدہ ہو، اور جس میں تجارتی فائدہ نظر نہ آئے، اس سے وہ دور ہو جائے گا۔ ایک وکیل کا معیار "کاغذ" ہے، اگر وہ دیکھے کہ اس کا کاغذ قانونی اعتبار سے پورا ہے تو وہ مطمئن رہے گا، اور اگر کا کاغذ قانونی اعتبار سے پورا نہ ہو تو وہ بے چین ہو جائے گا۔ اسی طرح کچھ لوگوں کا معیار ان کا ذاتی و قا ر ہے۔ وہ ہر چیز کو اس معیار پر جانچتے ہیں کہ اس کا اثر ان کی ذات پر کیا پڑتا ہے۔ جو بات ان کے ذاتی وقار کو ٹھیس پہنچانے والی ہو، اس کو وہ رد کر دیں گے۔ اور جس بات سے ان کا ذاتی وقار محفوظ رہے اس کو اختیار کریں گے۔
رد و قبول کے یہ تمام معیار جاہلیت کے معیار ہیں۔ یہ ان لوگوں کے معیار ہیں جنہوں نے حقیقت کو نہیں جانا۔ جو ابھی تک اپنے ذہنی خول میں جی رہے ہیں۔ ان کے ذہنی خول سے باہر جو حقائق ہیں ان کی انھیں خبر نہیں۔ مومن وہ ہے جو اپنے ذہنی خول سے باہر آجائے۔ ۔ جو تمام چیزوں کو حقیقت واقعہ کی نسبت سے دیکھنے لگے نہ کہ اپنے ذاتی رجحان کی نسبت سے۔
مومن کی زندگی کا معیار رجوع الی اللہ ہوتا ہے۔ وہ ہر چیز کو اس نسبت سے جانچتا ہے کہ اس سے اس کے اندر اللہ کی طرف رجوع پیدا ہوا یا اللہ کی طرف رجوع پیدا نہیں ہوا۔ اس کی کامیابی اگر اس کے اندر شکر خداوندی کا جذبہ ابھارے تو وہ کامیابی ہے ورنہ ناکامی ۔ اس کا نقصان اگر اس کو خدا کے مقابلہ میں اپنے عجز کا احساس دلائے تو وہ فائدہ ہے ورنہ سراسر نقصان ہے۔ غلطی کر کے اگر اس کے اندر اعتراف خطا کا احساس ابھرے اور وہ اپنے رب کی طرف دوڑ پڑے تو ایسی غلطی اس سے بہتر ہے کہ وہ غلطی نہ کرے اور اُس کے نتیجہ میں اُس کے اندر جھوٹا پندار پیدا ہو جائے۔
کچھ لوگ نفسانی غذا پر جیتے ہیں اور کچھ لوگ ربانی غذا پر ۔ غیر مومن کی خوراک نفسانی غذا ہوتی ہے۔ مومن وہ ہے جو ربانی غذا پر جینے لگے، جس کے لیے زندگی کا ہر تجربہ اس کو اپنے رب سے جوڑنے کا ذریعہ بن جائے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1988 All issues