Al-Risala · July 1988 · page 18

مسلمانوں کا مسئلہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۸، صفحہ ۱۸

قیادت کا دیوالیه‌ پن ضبط کروں میں کب تک آہ چل رے خامہ بسم اللہ بابری مسجد اور رام جنم بھومی (اجو دھیا) کا جھگڑا سو سال سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ تاہم اپنی موجودہ شکل میں یہ جھگڑا یکم فروری ۱۹۸۶ء کو شروع ہوا جب کہ فیض آباد کے ڈسٹرکٹ جج، کرشن موہن پانڈے، کے عدالتی حکم کے تحت مقامی پولیس نے بابری مسجد کے دروازہ کا تالا کھول دیا جو ۱۹۴۹ء سے بند چلا آ رہا تھا۔ اس کے نتیجہ میں یہ عمارت عملاً ہندوؤں کے قبضہ میں چلی گئی ۔ یہ واقعہ بلاشبہ غلط تھا۔ مگر اس کے بعد مسلمانوں نے جو کچھ کیا وہ یقینی طور پر اس سے بھی زیادہ غلط تھا۔ کیوں کہ وہ سنتِ رسولؐ کے خلاف تھا۔ قدیم مکہ میں ٔخدا کے مقدس ترین خدا خانہ کو بت خانے میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ اسی نوعیت کا سخت تر مسئلہ تھا۔ مگر اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں نے ان طریقوں میں سے کوئی طریقہ اختیار نہیں کیا جو موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے سیاست پسند لیڈروں کی پیروی میں اختیار کیا ہے ۔ کعبہ کے مذکورہ مسئلہ کو رسول اللہ نے قومی لڑائی کا عنوان نہیں بنایا بلکہ اپنی ساری توجہ انسانی ضمیر کو جگانے پر لگا دی ۔ بابری مسجد کا مسئلہ پیدا ہونے کے بعد مسلمانوں نے یہ کیا کہ انھوں نے بند، گرفتاری، دھرنا، ریلی، ایجی ٹیشن، جلسوں اور تقریروں کے ہنگامے جاری کر دیئے ۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ جب کہ مشرکین نے خانہ کعبہ میں بت داخل کر رکھے تھے، آپ نے ان مشرکین کے دلوں میں توحید کو داخل کرنے کی مہم شروع کر دی ۔ یہ طریقہ خدا کی صراطِ مستقیم کے مطابق تھا۔ چنانچہ اس کو صدقِ صد کامیابی حاصل ہوئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی کوششوں سے لوگوں کے سینے توحید خانے بن گئے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسجد بھی آخر کار بت خانے کے بجائے توحید خانہ میں تبدیل ہو گئی ۔

بابری مسجد کے معاملہ میں مسلمانوں نے جو ہنگامہ بر پا کیا ہے وہ سراسر ایک قومی ہنگامہ ہے۔ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ استحصال پسند لیڈروں کی پیروی میں ہے نہ کہ خدا کے پیغمبر کی پیروی میں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملہ میں مسلمانوں کو خدا کی مدد نہ مل سکی ۔ ان کے ان ہنگاموں سے

‹ Previous page Next page › Contents of July 1988 All issues

Printed page