اسلامی عبادتیں
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲
اسلامی عبادتیں
اسلام کی جو عبادتیں ہیں ، ان کی اگر چہ ایک ظاہری شکل ہے ۔ مگر اسی کے ساتھ ان کی ایک اسپرٹ (روح) ہے اور تمام عبادتیں اصلا اپنی اسی اسپرٹ کے اعتبار سے مطلوب ہیں ۔ نماز کی اسپرٹ تواضع ہے۔ نماز میں اللہ اکبر (اللہ بڑا ہے) کہنا اور پھر سجدہ میں گر کر زمین پر اپنا سر رکھ دینا ، اس بات کا اقرار ہے کہ اس دنیا میں ساری بڑائی صرف ایک خدا کو حاصل ہے۔ بندہ کے لیے صحیح رویہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو جھکا دے ۔ یہ اقرار آدمی کے اندر تواضع کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ مسجد سے نکل کر جب وہ انسانوں کے درمیان آتا ہے تو ان سے معاملہ کرنے میں اس کا انداز تواضع کا ہوتا ہے نہ کہ غرور اور گھمنڈ کا ۔
روزہ کی اسپرٹ برداشت ہے۔ رمضان کے مہینہ میں ناگزیر ضروریات زندگی کے معاملہ میں برداشت کا طریقہ اختیار کر کے آدمی اپنے اندر یہ مزاج پیدا کرتا ہے کہ وہ سماج کے اندر تحمل اور برداشت کے ساتھ رہے ، جذبات ابھارنے والے مواقع پر وہ بے قابو ہونے سے بچے۔ زکوٰۃ کی اسپرٹ خیر خواہی ہے۔ زکوٰۃ میں آدمی اپنی کمائی کا ایک حصہ دوسروں کو دے کر اپنے اندر یہ جذبہ ابھارتا ہے کہ وہ دوسروں کے مسئلہ کو اپنا مسئلہ سمجھے ، دوسروں کی ضرورت کے وقت وہ ان کے کام آئے ۔
حج کی اسپرٹ اتحاد ہے۔ حج کے موقع پر ساری دنیا کے مسلمان ایک جگہ اکٹھا ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کی ناخوش گواریوں کو نظر انداز کرتے ہوئے متحدہ طور پر عبادتی امور انجام دیتے ہیں۔ یہ اتحاد واتفاق کا سبق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام مسلمان ایک دوسرے کو اپنا بھائی سمجھیں۔ وہ مل جل کر رہیں ۔ اختلافات میں الجھنے کے بجائے وہ متحد اور متفق ہو کر زندگی گزاریں ۔
انسان کا جسم باقی رہے ، مگر اس کی روح نکل جائے تو ایسا انسان مردہ انسان ہے ۔ اسی طرح جس عبادت کی شکل موجود ہو مگر اس کی روح اس میں نہ پائی جاتی ہو تو ایسی عبادت مردہ عبادت ہے۔ اس سے وہ فائدہ نہیں مل سکتا جو زندہ عبادت سے عبادت کرنے والے کو ملتا ہے۔ ۱۹۸۸ ستمبر ۲
‹ Previous page Next page › Contents of September 1988 All issues