Al-Risala · September 1988 · page 16

میدانِ عمل

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۱۶

موجودہ زمانہ میں سید احمد شہید بریلوی سے لے کر اب تک، مسلمانوں نے بے شمار چھوٹی بڑی لڑائیاں لڑی ہیں اور تقریباً ہر بار انہیں یک طرفہ ناکامی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اقدام برائے اقدام کے اصول پر عمل کرتے ہیں۔ وہ فریق ثانی کے اپنے موافق میدان میں اس سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ حالاں کہ عقل اور اسلام دونوں کا تقاضا ہے کہ حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ اس کو خود اپنے موافق میدان میں لایا جائے اور پھر اس سے مقابلہ کیا جائے۔

اس بات کی وضاحت کے لئے یہاں میں ایک مثال دوں گا۔

ہندوستان کے مسلم لیڈر عام طور پر اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ ہندوستان کی آزادی کے لئے انھوں نے برابر کی قربانیاں دیں۔ مگر جب ہندوستان آزاد ہوا تو انہیں اس میں برابر کا حصہ نہیں ملا۔ ان سے ہر جگہ ”امتیاز“ کا سلوک کیا جاتا ہے۔

میرے نزدیک یہ شکایت بے معنی ہے۔ یہ مسلم لیڈروں کے فکری افلاس کو بتاتا ہے۔ انھوں نے اصل معاملہ کو نہ ماضی میں جانا، اور نہ آج وہ اس کو جانتے ہیں۔

مسلم رہنما اس بات کو نہیں جانتے کہ اصل مسئلہ آزادی کے لئے قربانی دینے کا نہیں تھا ۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ جب آزادی آئے گی تو اس کی شکل کیا ہوگی۔ دورِ جدید میں یہی ہونا تھا کہ آزادی جمہوریت کے روپ میں آئے۔ مگر مسلم رہنماؤں کا ذہن ماضی میں اتنا زیادہ اٹکا ہو ا تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ آزادی جب آئے گی تو وہ ”مغل دور“ کی واپسی کے ہم معنی ہوگی۔

اس بات کو ایک مثال سے اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک لطیفہ ہے کہ ایک سارس اور ایک لومڑی آپس میں دوست تھے۔ ایک بار دونوں نے طے کیا کہ وہ آپس میں مل کر کھیر پکائیں ۔ کچھ سامان سارس لایا اور کچھ سامان لومڑی اور دونوں نے مل کر کھیر پکائی۔ جب کھیر تیار ہوگئی اور وہ وقت آیا کہ اس کو کھایا جائے تو لومڑی نے ایک ہوشیاری کی۔ کھیر کو رکھنے کے لئے وہ ایک تشت لے آئی۔ کھیر جب تشت میں رکھی گئی تو وہ زیادہ تر لومڑی کے حصہ میں آگئی۔ لومڑی نے خوب سیر ہو کر کھایا۔ دوسری طرف سارس اپنی لمبی چونچ ادھر ادھر مارتا رہا مگر کھیر کی بہت کم مقدار اس کے حصہ میں آسکی۔ وہ کھیر پکانے میں شریک تھا، مگر وہ کھیر کھانے میں شریک نہ ہوسکا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1988 All issues

Printed page