وسیع تر میدان
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۷
میز کی سطح پر آتے ہی "باکسر" کے مقابلہ میں "سائنس داں" کی جیت یقینی ہواگئی۔ حدیبیہ کے وقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ممکہ کی طرف جا رہے تھے تو آپ کے ساتھ ڈیڑھ ہزار سے بھی کم آدمی تھے۔ اس کے دو برس بعد آپ نے دوبارہ مکہ کی طرف سفر کیا تو آپ کے ہمراہ دس ہزار آدمی تھے۔ چنانچہ جب آپ مکہ کے قریب پہنچے اور لوگوں نے آپ کے ساتھ انسانوں کا سیلاب دیکھا تو مکہ کے سرداروں نے مکہ میں اعلان کر دیا کہ گھروں میں بیٹھ جاؤ، کیوں کہ آج ہمارے اندر محمد سے لڑنے کی طاقت نہیں ۔ ۔۔۔۔۔ کہ خون بہائے بغیر فتح ہو گیا اور اسی کے ساتھ ساری عرب قوم بھی۔ یہ مکمل طور پر ایک غیر خونی انقلاب تھا۔ مگر اس غیر خونی انقلاب کو وجود میں لانے کے لئے اس کے قائد کو خود خون ہونا پڑا ۔ اس کے لئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایسی شرائط پر راضی ہوئے جو بظاہر انتہائی طور پر ایک طرفہ شرائط تھیں۔ آپ کو آگے جانے کے لئے پیچھے ہٹنا پڑا۔ آپ کو فتح حاصل کرنے کے لئے شکست پر راضی ہونا پڑا۔ حتی کہ آپ کو اپنی حیثیت اصلی (رسول اللہ) کا لفظ کا غنہ سے حذف کرنا پڑا تاکہ وہ دوبارہ زیادہ کامل طور پر عالمی نقشہ پر لکھا جائے۔ ضروری شرط حریف سے اپنے موافق میدان میں مقابلہ کرنا، اس کے اوپر فتح حاصل کرنے کی سب سے زیادہ کامیاب تدبیر ہے۔ یہ تدبیر حریف کے مقابلہ میں کامیابی کو یقینی بنا دیتی ہے۔ مگر اس تدبیر کو استعمال کرنے کی ایک ضروری شرط ہے۔ لوگ چونکہ اس شرط کو پور انہیں کر پاتے، اس لئے وہ اس کے فائدے سے بھی محروم رہتے ہیں۔
یہ شرط، ایک لفظ میں، اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے بچانا ہے۔ جب بھی کسی سے مقابلہ پیش آتا ہے تو اس کی طرف سے طرح طرح کی مخالفانہ کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ اشتعال انگیز الفاظ سے لے کر عملی نقصانات تک، ہر قسم کے تلخ تجربات سامنے آتے ہیں۔ اس وقت اگر آدمی بھڑک اٹھے تو وہ وقتی جوش کے ساتھ حریف سے وہاں ٹکر اجائے گا جہاں وہ کھڑا ہوا ہے۔ لیکن اگر وہ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہو اور ٹھنڈے ذہن نے سوچ کر مقابلہ کا منصوبہ بنائے تو وہ کوشش کرے گا کہ حریف کو اپنے موافق میدان میں لائے۔ اور جب ایسا ہو گا تو اس کی کامیابی یقینی ہو جائے گی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان جان و مال کی بے پناہ قربانی کے باوجود ہر بار اپنے حریف سے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1988 All issues