Al-Risala · September 1988 · page 39

بربادی کے رہنما

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۹

یہ مصلحت بھی ایک خود ساختہ مصلحت ہے جو سنت رسول سے واضح طور پر ٹکراتی ہے۔ یہاں میں دوبارہ حدیبیہ کی مثال دیتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالقعدہ ۶ھ میں مدینہ سے کے لیے روانہ ہوئے تاکہ وہاں پہنچ کر کعبہ کی زیارت کریں اور عمرہ کے مراسم ادا کریں۔ آپ مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو اہل مکہ (قریش) نے روکا اور کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ آپ عمرہ کیے بغیر مدینہ واپس جائیں۔

قریش کا یہ فعل سراسر دستور عرب کے خلاف تھا۔ عرب میں یہ مسلمہ دستور تھا کہ کوئی شخص کعبہ کی زیارت کے لیے آئے تو اس کو روکا نہ جائے۔ چنانچہ ساری قدیم تاریخ میں کبھی کسی کو زیارت کعبہ سے روکا نہیں گیا تھا۔ یہ دستوری حق اتنا زیادہ قطعی اور مسلم تھا کہ جب سرداران قریش نے آپ کو روکا تو خود مشرکوں میں کچھ ایسے لوگ نکلے جنہوں نے اس کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ مثلاً حُلَیس بن علقمہ (سیدالاحابیش) جو قریش کا حلیف تھا، اس نے غصہ ہو کر کہا:

یا معشر قریش واللہ ما علی هذا حافنا كم اے قریش کے لوگو، خدا کی قسم، ہم اس بات پر ولا علی هذا عاهدنا كم - أَيُصَدُّ عن بيت تمہارے حلیف نہیں بنے تھے اور نہ اس بات پر ہم اللهِ مَن جَاءَهُ معظمًا له ۔ والذى نفس نے تم سے معاہدہ کیا تھا۔ کیا اس شخص کو بیت اللہ الحليس بيده لَتُحَلُّنَّ بين محمد وبين سے روکا جانے لگا جو بیت اللہ کی زیارت کے لیے ما جاء له أولَا نَفْرِقَنَّ بالاحابيش نفرَةَ اور اس کی تعظیم کے لیے آیا ہو۔ قسم ہے اس ذات رجل واحد - کی جس کے قبضہ میں حُلَیس کی جان ہے، تمہیں محمد (سيرة ابن كثير، المجلد الثالث ، صفحه ۳۱۶ ) اور وہ جس کام کے لیے آئے ہیں، اس کے درمیان سے ہٹنا ہوگا ، ورنہ میں تمام حبشیوں کو لے کر یک لخت تم سے الگ ہو جاؤں گا۔

اس قسم کی بات کچھ اور مشرکوں نے بھی کہی۔ مگر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر اپنے " دستوری حق " کا سوال نہیں اٹھایا۔ اور نہ یہ کہہ کر اس کو اہم بنانے کی کوشش کی کہ یہ ایک علامتی واقعہ ہے ، ہم کو " گر بہ کشتن روز اول" کے اصول پر عمل کرنا چاہیے ۔ ورنہ آج عمرہ کے بارہ میں ہمارا دستوری حق ہمیں دینے سے انکار کیا جا رہا ہے ۔ کل ہم کو حج کے حق سے محروم کیا جائے گا۔ اور پھر حقوق

‹ Previous page Next page › Contents of September 1988 All issues

Printed page