بربادی کے رہنما
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۴۳
11۔ مسلم لیڈروں کی لفظی ہنگامہ آرائی بابری مسجد اشو میں تو کسی قسم کی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ البتہ ہندو فرقہ پرست عناصر کو ضرور نئی زندگی مل گئی ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ بدنام ہندو مورخ مسٹر پی این اوک نے دوبارہ نئے نئے انکشافات شروع کر دیے ہیں۔ ان کا ایک انکشاف یہ اخبارات میں آیا ہے کہ دہلی کی جامع مسجد ایک مندر کی جگہ پر بنی ہے۔ قدیم زمانہ میں یہاں ایک ہندو مندر تھا۔ مغل دور میں اس کو ڈھاکر وہاں مسجد بنائی گئی (ٹائمز آف انڈیا ۵ اگست ۱۹۸۸) علی گڑھ میں ہندو تنظیموں کی میٹنگ میں اعلان کیا گیا کہ مسلمان اگر ۱۲ اگست کو اجودھیا مارچ کرتے ہیں تو اسی دن ہندوؤں کا جتھا مسجد میں ہنومان چالیسا کا پاٹھ کرنے کے لیے داخل ہوگا۔ اور یہ کہ " ۱۲ اگست وہ تاریخی دن ہو گا جب یہ بات صاف ہو جائے گی کہ بھارت میں مسلمانوں کو کن حالات میں رہنا ہے " (پرتاپ ۱۲ اگست ۱۹۸۸) اس طرح کی باتوں کی بنا پر ممکن ہے کہ ہمارے سے لیڈر صاحبان کوئی خوبصورت عذر نکال کر مارچ کو ملتوی کر دیں جس کا اندیشہ الرسالہ جولائی ۱۹۸۸ میں ظاہر کیا گیا تھا۔ تاہم اس غلط سیاست کے ذریعہ مسلمانوں کو تباہی کے جس کنارہ پر کھڑا کر دیا گیا ہے ، اس کے نقصان کا سلسلہ مارچ کے التوا کے بعد بھی ختم نہ ہوگا۔
اس معاملہ میں مسلمان لیڈر جس طرح چیلنج کی زبان میں بات کرتے رہے ہیں ، جس طرح انھوں نے مسلمانوں سے " بابری مسجد لے کے رہیں گے " کے نعرے لگوائے ہیں ، اپنی پرجوش تقریروں سے جس طرح انھوں نے مسلمانوں کے جوش کو آخری حد تک ابھار دیا ہے ، اس کے بعد مارچ کو روکنا کوئی سادہ واقعہ نہیں ہوگا۔ یہ مسلمانوں کو بہت بڑے پیمانہ پر اس احساس سے دوچار کرنے ہم معنی ہوگا کہ ہمارے لیے کچھ کرنے کے مواقع نہیں ہیں۔ کسی گروہ کو ایک ایسے نشانہ کے لیے ابھارنا جو پورا ہونے والا نہ ہو ، نتیجہ کے اعتبار سے انھیں مایوسی اور شکست خوردگی کے احساس میں مبتلا کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اقدام وہی ہے جو سچا اقدام ہو، جھوٹا اقدام بربادی کے سوا کسی اور چیز میں اضافہ نہیں کرتا۔ تکمیل مقصد کے بغیر مارچ کا فیصلہ واپس لینے کے بعد یہی واقعہ اپنی شدید ترین صورت میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آئے گا۔
یہی وہ المناک اندیشہ تھا جس کے بارہ میں الرساله ستمبر ۱۹۸۶ کے صفحہ اول پر ان الفاظ میں چیتاونی دی گئی تھی : بزدلی دکھا کر چپ ہونے سے بہتر یہ ہے کہ آدمی بزدلی دکھائے بغیر چپ ہو جائے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1988 All issues