Al-Risala · October 1988 · page 2

شماره ۱۴۳

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲

عن أبي ايوب الانصاري قال قال رسول الله حضرت ابو ایوب انصاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم لا يحل للرجل صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی آدمی کے لیے ان يهجر اخاه فوق ثلاث ليال يلتقيان جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن تک چھوڑے فيعرض هذا ويعرض هذا وخيرهما رکھے۔ دونوں کا سامنا ہو تو یہ ادھر منہ پھیر لے الذى يبد أبالسلام اور وہ ادھر منہ پھیرلے۔ اور دونوں میں بہتر وہ ہے (متفق عليه ) جو سلام میں پہل کرے۔

اللہ کے محبوب بندے وہ ہیں جنہیں نمایاں ہونے کا کوئی شوق نہ تھا۔ وہ گم نامی میں جئے اور گم نام ہی اس دنیا سے چلے گئے۔ جنہوں نے جو کچھ کیا صرف اللہ کے لیے کیا، ان کی کوئی اور غرض اس میں شامل نہ تھی، جو اتنے بے نفس تھے کہ اگر کسی بھائی سے بگاڑ کی بات ہوگئی تو انھوں نے تعلقات کو خوش گوار بنانے کے لیے پہل کی۔

اس دنیا میں بگاڑ کا پیش آنا فطری ہے۔ مگر بگاڑ پر قائم رہنا سرکشی ہے۔ جو شخص بگاڑ پر قائم رہے، وہ اپنے عمل سے ثابت کرتا ہے کہ وہ خود پرستی کا مریض ہے ۔ وہ اپنی ذات کو حق سے بلند سمجھتا ہے۔ وہ اپنی خواہش کو وہ مقام دے رہا ہے جو مقام خدا کو دیا جانا چاہیے ۔ حق کا مجروح ہونا اسے گوارا ہے، مگر اپنی ذات کا مجروح ہونا اسے گوارا نہیں ۔

ایسے ہی لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب کسی سے کوئی شکایت کی بات ہو جاتی ہے تو وہ غصہ ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ اس سے سلام وکلام بند کر دیتے ہیں ۔ حتی کہ جب جذبات ٹھنڈے پڑتے ہیں اور انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اس وقت بھی وہ دوبارہ تعلقات پیدا کرنے میں پہل نہیں کرتے۔ وہ اس کو اپنے لیے سبکی سمجھتے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر میں نے پہل کی تو میں چھوٹا ہو جاؤں گا۔

اس قسم کے خیالات یقیناً شیطانی وسوسہ ہیں ۔ اور مومن کو چاہیے کہ وہ اس قسم کے وسوسوں سے بچے ۔ وہ اللہ کی خاطر ہر دوسری چیز کو نظر انداز کر دے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues

Printed page