Al-Risala · November 1988 · page 2

اپنا نقصان

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲

اپنا نقصان

اس دنیا میں سب سے بڑی چیز کیا ہے جس کو آدمی پائے۔ اور جس کو پانے کا خصوصی طالب بنے۔ یہ سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ آدمی خدائی تجلیات کا آخذ (Recipient) بن سکے۔ خدا کی رحمت کا فیضان ہر آن دنیا میں برستا ہے، مگر اس کو پانے والا وہی شخص ہے جس نے اپنے اندر پانے کا استحقاق پیدا کیا ہو۔

جب ایک شخص پر تنقید کی جائے اور وہ تنقید کو سن کر بگڑ اٹھے تو اس نے اپنے آپ کو فیضانِ الہی سے محروم کر لیا، کیوں کہ تنقید کو سن کر بگڑ نا کبر ہے، اور جس سینہ میں کبر ہو وہ سینہ کبھی فیضانِ الہی کا مہبط نہیں بن سکتا۔

یہی معاملہ تمام دوسری چیزوں کا ہے۔ ایک شخص کے سامنے حق بات واضح دلائل کے ساتھ پیش کی جائے مگر وہ اس کو نہ مانے اور دھاندلی کا انداز اختیار کرے، ایسا شخص کبھی خدا کی قربت کا تجربہ نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ خدا اعتراف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے، دھاندلی کرنے والے لوگ اُسے پسند نہیں ۔

آسمان سے بارش ہو تو زرخیز زمین اس کو قبول کرتی ہے ۔ پانی اس کے اندر داخل ہو کر اس کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ اس سے فصل اگے، اس میں پھول اور پھل پیدا ہوں ۔ مگر یہی بارش پتھر کی چٹان پر پڑتی ہے تو وہ اوپر اوپر بہہ جاتی ہے ۔ وہ اس کو کچھ فائدہ نہیں پہنچاتی ۔ یہی مثال خدائی فیضان کے معاملہ میں انسان کی ہے ۔ خدا کا فیضان ہر لمحہ دنیا میں برس رہا ہے۔ تاہم اس کو وہی شخص پاتا ہے جس نے اپنے اندر اس کو پانے کی استعداد پیدا کی ہو۔ جس شخص کے اندر استعداد نہ ہو، اس کے اوپر خدا کا فیضان برسے گا مگر وہ پتھر کی چٹان کی طرح اوپر ہی اوپر سے گزر جائے گا۔ وہ اس کے سینہ کے اندر داخل نہیں ہو گا۔ وہ اس کی روح میں شامل ہو کر اس کو روشن نہیں کرے گا۔

اپنے سینہ کے پتھر یلے پن کو ختم کیجئے، اس کو نرم مٹی کی طرح بنا دیجئے ۔ اور پھر آپ دیکھیں گے کہ آپ کا سینہ ربانی فصل کا چمنستان بن گیا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues

Printed page