Al-Risala · November 1988 · page 4

تخریب نہیں

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۴

تخریب نہیں

کورین ایر کی فلائٹ ۸۵۸ نومبر ۱۹۸۷ء کی ۲۹ تاریخ کو بغداد سے اڑی۔ اسے سی اول پہنچنا تھا۔ وہ بحرانڈمان کے اوپر ۳۷ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑ رہی تھی کہ اچانک دھماکا ہوا، اور اس کے ۱۱۵ مسافر فضا ہی میں ہلاک ہو گئے۔ دھماکا اتنا شدید تھا کہ پائلٹ ایئرپورٹ کو سگنل (Distress signal) بھی نہ بھیج سکا۔ جب کہ اس کے لیے صرف ایک سیکنڈ کا وقت درکار تھا۔ جہاز کی تباہی کا یہ منصوبہ شمالی کوریا کی طرف سے بنایا گیا تھا۔ منصوبے کے تحت شمالی کوریا کی ایک ۴۲ سالہ عورت کو تربیت دے کر جہاز کا سفر کرایا گیا۔ وہ بغداد سے اس جہاز پر سوار ہوئی اور جہاز کے اوپر کے خانہ میں ٹرانسٹر بم رکھ کر ابوظبی میں اتر گئی۔ یہ ایک طاقت ور ٹائم بم تھا ۔ وہ اپنے وقت پر پھٹا اور پورا جہاز اچانک تباہ ہو گیا۔ اس منصوبے کا مقصد اولمپک ۱۹۸۸ء کو ناکام بنانا تھا جو جنوبی کوریا کے دار السلطنت سی اول میں ہو رہا تھا۔ شمالی کوریا کی اشتراکی حکومت کو جنوبی کوریا کا یہ اعزاز پسند نہ تھا۔ شمالی کوریا کے اسٹالینی ڈکٹیٹر کم ال سنگ (Kim II Sung) نے اپنی خفیہ ایجنسی کو حکم دیا کہ جنوبی کوریا کے جہاز کو بم سے اڑا دو تاکہ جنوبی کوریا کا سفر لوگوں کو غیر محفوظ معلوم ہونے لگے اور لوگ اولمپک میں شرکت کا ارادہ چھوڑ دیں۔ اس تخریبی مقصد کے تحت مذکورہ جہاز کو برباد کیا گیا۔

جنوبی کوریا کے جہاز کو برباد کرنا نہایت بے ہودہ جرم تھا مگر دہشت گردی کے اعتبار سے وہ مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ کوئی بھی ملک اس سے ڈر کر اولمپک کی شرکت سے نہیں رکا۔ اس کے برعکس، ۱۶۱ ملکوں نے اعلان کیا کہ وہ سب اس میں شریک ہوں گے۔ یہ تعداد کسی بھی پچھلے اولمپک سے زیادہ ہے:

The destruction of KAL 858 was a monstrous crime, but as an act of terrorism it proved to be monumental failure. No country was frightened away from the Olympics. On the contrary, 161 countries have announced they will attend, more than at any previous Games. (Reader's Digest, August 1988 کسی کے خلاف تخریب کاری خود اپنے خلاف تخریب کاری ہے۔ ایسا آدمی صرف اپنا نقصان کرتا ہے، وہ کسی دوسرے شخص کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues

Printed page