لفظ کا فرق
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۶
لفظ کا فرق
ہوائی جہاز چلانے کا کام بہت زیادہ تربیت کا طالب ہے۔ مگر اکثر پائلٹ مطلوبہ معیار سے کم ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی۔ امریکی میگزین ٹائم (یکم اگست ۱۹۸۸) نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کی سرخی یہ ہے ــــــ کیا امریکی ہواباز کو لائفارڈ ہیں : Are U.S. pilots qualified (p. 39). اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کی ہوائی کمپنیاں اکثر فیڈرل اوئلیشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کے سرٹیفکٹ پر بھروسہ کرکے پائلٹ کو بھرتی کر لیتی ہیں، خود زیادہ تحقیق نہیں کرتیں۔ مگر یہ بھروسہ کافی نہیں۔ ایک ریسرچ ٹیم نے ۱۱۲ ہوابازوں کا جائزہ لیا تو ان میں ۵۰ فیصد ہواباز معیار سے کم تر تھے۔
مثلاً ایک پائلٹ نے ۱۹۸۵ میں ایک ہوائی حادثہ کیا۔ اس کے ریکارڈ کا گہرا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس سے پہلے وہ تین مزید حادثات کر چکا تھا، اس کے باوجود اس کو بھرتی کر لیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پہلے تینوں حادثات اس کی فائل میں حادثات (Accidents) کے بجائے محض واقعات (Incidents) لکھے ہوئے تھے۔
الفاظ کا معاملہ بڑا عجیب ہے۔ ایک ہی واقعہ کو گھٹا کر بھی بیان کیا جا سکتا ہے اور بڑھا کر بھی ایک قسم کا لفظ بولا جائے تو وہ معمولی نظر آئے گا، اور دوسرے قسم کا لفظ بولا جائے تو بے حد سنگین معلوم ہونے لگے گا۔ الفاظ کا معاملہ بر جیسا ہے۔ اس میں کمی بیشی کا انحصار اس پر ہے کہ آپ نے اس کو کتنا کھینچا اور کتنا نہیں کھینچا۔
اس معاملہ میں مومن کے قول کو قول سدید ہونا چاہیے ۔ قولِ سدید کا مطلب یہ ہے کہ بالکل لگتی ہوئی بات کہی جائے۔ ایسے الفاظ بولے جائیں جو اصل واقعہ کے ٹھیک ٹھیک مطابق ہوں، نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ۔ خاص طور پر جہاں دو شخص یا دو گروہ کے درمیان کا نزاعی معاملہ ہو وہاں تو عین مطابق واقعہ لفظ بولنا فرض کے درجہ میں مطلوب ہو جاتا ہے، اور غیر واقعی لفظ بولنا حرام کے درجہ میں غیر مطلوب ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues