Al-Risala · November 1988 · page 12

مصلحت کی دو قسمیں

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۱۲

مصلحت کی دو قسمیں

شریعت انسان کی بھلائی کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ اس لحاظ سے پوری شریعت مصلحت انسانی پر مبنی ہے۔ تاہم شریعت کے نزدیک بعض مصلحتیں قابل لحاظ ہیں اور بعض مصلحتیں ناقابلِ لحاظ۔ اس بنا پر فقہاء اسلام نے مصلحت کی دو قسمیں قرار دی ہیں۔ مصالح معتبرہ ، یعنی وہ مصلحت جس کا شریعت میں اعتبار کیا گیا ہو۔ اور مصالحِ مُلغَاة ، یعنی وہ مصلحت جس کو شریعت نے لغو قرار دیا ہو۔ ۱۔ جان کی حفاظت کے لیے شریعت نے قصاص کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح مال کی حفاظت کے لیے چوری کی حد مقرر کی ہے۔ یہ مصالح معتبرہ کی مثالیں ہیں۔ مصالح کی اس فہرست میں قیاس و استنباط کے ذریعہ اضافے کیے جاسکتے ہیں۔ مثلاً خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق نے تقسیم وظائف کے لیے رجسٹر کا طریقہ رایج کیا جو پہلے موجود نہ تھا۔ یہ بھی استنباطی طور پر مصالح معتبرہ میں شمار کیا جائے گا۔ ۲۔ میراث میں قرآن نے یہ قاعدہ مقرر کیا ہے کہ مرد کو عورت سے دگنا حصہ دیا جائے (النساء 11) اب اگر کوئی شخص بطورِ خود ایک وجہ نکال کر کہے کہ عورت اور مرد دونوں کو برابر حصہ دینا چاہیے تو یہ مصالحِ مُلغَاة کی مثال ہوگی ۔ یہ ایک لغو مصلحت ہوگی جس کا اعتبار کرنے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ وہ حکم شریعت سے براہِ راست ٹکراتی ہے۔

مصالح معتبرہ اور مصالحِ مُلغَاة کا تعلق صرف روایتی قسم کے مسائل سے نہیں ہے۔ اس کا تعلق زندگی کے تمام مسائل سے ہے۔ مثلاً ہندوستان میں جب مسلمانوں سے کہا جاتا ہے کہ دوسرے فرقہ کے ساتھ ٹکراؤ نہ کرو ۔ بلکہ قرآنی تعلیم کے مطابق، اعراض کا طریقہ اختیار کرو ، تو وہ جواب دیتے ہیں کہ اگر ہم اعراض کریں تو وہ جری ہو جائیں گے اور ہمارے خلاف مزید کارروائیاں کریں گے ۔ مسلمانوں کی یہ مصلحت بھی مصالحِ مُلغَاة میں شامل ہے ، کیوں کہ وہ ان کے اپنے دماغ کی ایجاد ہے ، وہ قرآن کی کسی تعلیم یا پیغمبر کی کسی سنت پر مبنی نہیں وہی مصلحت معتبر مصلحت ہے جو قرآن وسنت کے مطابق ہو، جو مصلحت قرآن وسنت کے مطابق نہ ہو وہ ایک لغو مصلحت ہے ، جس کا لحاظ کرنے کی ضرورت نہیں۔ ایسی مصلحت مسلمانوں کو کبھی فلاح و سعادت کی طرف نہیں لے جاسکتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues

Printed page