Al-Risala · February 1988 · page 3

آگ کا ٹکڑا

الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۳

آگ کا ٹکڑا

عَنْ اُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ وَاِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ اِلَىَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ اَنْ يَكُوْنَ اَلَحْنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَاَقْضِيَ لَهُ بِنَحْوِ مَا اَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ اَخِيْهِ فَاِنَّمَا اَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِّنَ النَّارِ (متفق عليه) حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک انسان ہوں اور تم اپنے مقدمات میرے پاس لاتے ہو۔ ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے شخص کے مقابلہ میں زیادہ اچھے انداز میں اپنا دعویٰ پیش کرے اور میں اپنے سننے کے مطابق اس کے حق میں فیصلہ کردوں ۔ تو میں نے جس شخص کو اس کے بھائی کا حق دیا، اس کو میں نے آگ کا ایک ٹکڑا دیا۔

یہ حدیث بتاتی ہے کہ ایک جائیداد ہر حال میں اسی کی ہے جو اس کا واقعی حق دار ہے حتیٰ کہ اگر خود پیغمبر کسی وجہ سے غیر حق دار کے لیے اس کا فیصلہ کر دیں تب بھی وہ غیر حق دار کی نہیں ہو سکتی۔ پیغمبر کے فیصلہ کے باوجود وہ آخرت میں اس کے لیے آگ کا ٹکڑا ثابت ہوگی ۔ موجودہ زمانہ میں ناجائز قبضہ بہت عام ہے۔ موجودہ بگڑے ہوئے نظام نے لوگوں کو موقع دیا ہے کہ وہ رشوت اور دھاندلی کے زور پر اپنی ناجائز خواہشات پوری کر سکیں۔ چنانچہ آج ہر بستی اور ہر شہر میں ایسے لوگ ملیں گے جنھوں نے غلط کارروائی کر کے کسی دوسرے شخص کی زمین یا عمارت پر قبضہ کر لیا ہے۔

ایسے لوگوں کے لیے یہ حدیث بہت زیادہ ڈرانے والی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب رسول خدا کے فیصلہ کے باوجود ایک جائیداد کسی غیر حق دار کی نہیں ہوتی تو وہ ان لوگوں کی کیسے ہو جائے گی جو فرضی رجسٹری اور جھوٹے سرکاری کاغذات کی بنیاد پر دوسرے کی جائیداد پر قبضہ کر کے بیٹھ گئے ہوں ۔

دنیا میں آدمی غیر کی عمارت پر قابض ہو کر خوش ہوتا ہے۔ آخرت میں اس کا کیا حال ہوگا جب اس پوری عمارت کو آگ کی عمارت بنا کر اس کے اندر اسے بند کر دیا جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues

Printed page