ضمیر کی آواز
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۷
کچھ روز اسپتال میں رہنے کے بعد اس کو سیول لے جایا گیا۔ وہاں ۱۵ جنوری ۱۹۸۸ کو ایک پریس کانفرنس ہوئی۔ اس میں مختلف ملکوں کے اخباری نمائندے بڑی تعداد میں جمع تھے۔ عورت کو اس پریس کانفرنس میں پیش کیا گیا۔ اس کی تصویر انڈین ایکسپریس (۱۷ جنوری ۱۹۸۸) میں چھپی ہے جس میں وہ سخت حواس باختہ حالت میں دکھائی دے رہی ہے ۔
ٹائم (۲۵ جنوری ۱۹۸۸) کی رپورٹ کے مطابق، عورت نے روتے ہوئے اور سسکیاں بھرتے ہوئے اخباری نمائندوں کے سامنے کہا کہ جو گناہ میں نے کیا ہے وہ اتنا برا ہے کہ اس کے لیے مجھے سخت ترین سزا دی جائے اور مجھے ایک سو بار قتل کیا جائے :
I should be punished and killed a hundred times for my sin. یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ انسان کے اندر پیدائشی طور پر ایک نہایت طاقت ور استعداد موجود ہے ۔ یہ وہی ہے جس کو عام طور پر ضمیر کہا جاتا ہے۔ کسی لالچ میں یا کسی وقتی اشتعال کے تحت کوئی شخص ایک برا فعل انجام دے سکتا ہے۔ مگر جیسے ہی وقتی جذبہ کا طوفان ہٹتا ہے ۔ اس کا اندرونی ضمیر اس کو ملامت کرنے لگتا ہے ۔ ضمیر کو چھوتے ہی اس کا ٹائر پنکچر ہو جاتا ہے ۔ وہ اس قابل نہیں رہتا کہ اپنے جرم کو مزید جاری رکھ سکے ۔
بعض سیاہ قلب یا پیشہ ور افراد کا اس میں استثناء ہو سکتا ہے۔ مگر عام انسانی فطرت یہی ہے ۔ عام انسان اپنے ضمیر کی آواز کو دبا نہیں سکتا۔ کسی انسان کو اس کے جرم سے روکنے کی سب سے آسان تدبیر یہ ہے کہ اس کے اندر چھپے ہوئے ضمیر کو مخاطب بنایا جائے ۔ ضمیر گو یا خدا کی عدالت ہے۔ اور اگر مقدمہ ضمیر کے سامنے رکھ دیا جائے تو اس کے لیے ممکن نہیں کہ وہ سچائی کے سوا کسی اور بات کا فیصلہ کرے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1988 All issues