Al-Risala · December 1988 · page 15

بھونچال

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۱۵

ٹوٹی ہوئی عمارتوں میں دوبارہ داخل ہونا انہیں منظور نہ تھا۔ لوگ اپنے گھروں کو خود ہی چھوڑ رہے تھے۔ اپنی جائیدادوں کو اس طرح دیکھ رہے تھے جیسے وہ ان کی محبوب جائدادیں نہ ہوں بلکہ ڈراؤنے بھوت ہوں جو انہیں کھایا چاہتی ہوں ۔

زلزلے عذاب نہیں، زلزلے تنبیہ ہیں۔ وہ قیامت کے اس آنے والے عذاب کو یاد دلاتے ہیں جس کے مقابلہ میں انسان مکمل طور پر بے بس ہوگا اور جب خدا کی پکڑ سے اپنے آپ کو بچانا کسی کے لیے ممکن نہ ہوگا۔ ایک عام آدمی جب زلزلہ میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ سوچتا ہے کہ زلزلے کیوں آتے ہیں۔ مگر سائنس داں اس کے برعکس یہ سوچتا ہے کہ زلزلے کیوں نہیں آتے۔ کیوں کہ ہماری زمین کی بناوٹ اس ڈھنگ کی ہے کہ اس کو ہر وقت ہلنا چاہیے یا کم از کم بار بار اس کو بھونچال سے دوچار ہونا چاہیے ۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ بہار اور اس کے آس پاس کے علاقہ میں اس سے پہلے ۱۹۳۴ میں سخت زلزلہ آیا تھا جس میں ۱۰۰ ، آدمی ہلاک ہوگئے ۔ اس کے بعد ۱۹۸۸ میں یہاں اس قسم کا زلزلہ آیا۔

ہمالیہ کا رقبہ ، خاص طور پر اس کا شمال مشرقی علاقہ متحرک چٹانوں کے اوپر قائم ہے۔ اس قسم کے حلقہ کو بھونچالی حلقہ (Seismic belt) کہا جاتا ہے۔ زلزلے عام طور پر اسی طرح کے مقامات پر آتے ہیں۔ ہندوستان میں اٹھارویں صدی کے آغاز سے زلزلوں کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جارہا ہے۔ اس کے مطابق ۱۸۱۹ سے اب تک پندرہ بڑے زلزلے آچکے ہیں، سب سے زیادہ سخت بھونچال ۱۱ اکتوبر 1737 ، کو کلکتہ میں آیا تھا جس میں تین لاکھ سے زیادہ آدمی ہلاک ہوگئے ۔

ہماری زمین ہر وقت زلزلہ کی زد میں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین پر ہر سال ایک ملین (۱۰ لاکھ) بار تھرتھراہٹ پیدا ہوتی ہے۔ ان میں سے ۹۵ فیصد وہ ہیں جن کو صرف سائنس داں اپنی ریکارڈنگ مشین کے ذریعہ معلوم کر سکتے ہیں۔ بیسویں صدی میں دنیا کے مختلف مقامات پر جو زلزلے آئے ہیں ، ان میں تقریباً دو ملین (۲۰ لاکھ) آدمی ہلاک ہو گئے اور ۱۰ ہزار کروڑ روپیہ کی املاک کو نقصان پہنچا۔ زمین کی تھرتھراہٹ جب غیر معمولی شدت اختیار کرلے تو اسی کا نام زلزلہ یا بھونچال ہے (ٹائمس آف انڈیا ، ۲۳ اگست ۱۹۸۸) زلزلے غیر محسوس حالت میں ہر روز آتے ہیں۔ خدا کبھی کبھی ان میں شدت پیدا کرکے ہمیں ان کی ہولنا کی کو محسوس کرادیتا ہے ۔ یہ گویا ایک چیتاونی ہے کہ آدمی آنے والے بڑے زلزلہ (قیامت) کو یاد کرے اور اپنی اصلاح کر کے اپنے آپ کو خدا کی پکڑ سے بچالے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1988 All issues

Printed page