Al-Risala · February 1988 · page 6

منافقت

الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۶

منافقت

ایک لمبی حدیث ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ موت کے بعد انسان کے اوپر کیا احوال گزریں گے ۔ اس سلسلہ میں حدیث کا ایک جز یہ ہے :

وإن كان كافراً أو منافقاً يقول له منكر و النكير اگر مرنے والا منکر یا منافق ہے تو فرشتہ اس سے فی ھذا الرجل۔ فیقول لا ادری۔ سمعت پوچھے گا کہ تم اس آدمی (پیغمبر) کے بارہ میں کیا الناس يقولون شيئاً فيقول لا دريت ولا کہتے ہو ۔ وہ جواب دے گا کہ میں نہیں جانتا۔ تليت ولا اهتديت ۔ ثم يفتح له میں نے لوگوں کو سنا کہ وہ کچھ کہہ رہے تھے۔ پھر وہ باباً الى الجنة فيقول له هذا منزلك کہے گا کہ میں نے اس کو جاننے کی کوشش نہیں کی۔ لو امنت بربت۔ فاما اذا كفرت به نہ میں نے اس کی پیروی کی اور نہ میں اسے فإن الله عز وجل ابد لك به هذا رہنمائی حاصل کی۔ پھر اس کے لیے جنت کی طرف فيفتح له باباً الى النار۔ ایک دروازہ کھولا جائے گا ۔ پھر فرشتہ اس سے (تفسیر ابن کثیر، الجزء الثانی، صفحہ ۵۳۳) کہے گا کہ یہ تمہاری جگہ تھی اگر تم اپنے رب پر ایمان لاتے۔ مگر جب تم نے اس کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے تمہیں یہ دیدیا۔ پھر اس کے لیے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جائے گا۔

اس حدیث میں مرنے کے بعد جس انجام کا ذکر ہے، اس میں کافر کے ساتھ منافق کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔ منافق کا لفظ پہلی بار مدینہ میں استعمال کیا گیا ۔ وہاں کون لوگ تھے جن کو منافق کہا گیا ۔ یہ وہ لوگ تھے جو کلمہ کا اقرار کرتے تھے۔ نماز اور دوسری عبادات پر بظاہر عمل کرتے تھے۔ البتہ ان کے دل میں ایمان پوری طرح نہیں اترا تھا۔ وہ ان مواقع پر پیچھے رہ جاتے تھے جہاں قربانی کی قیمت پر اپنے ایمان کا ثبوت دینا ہو۔ وہ مصلحت کی سطح پر مسلمان بنے تھے نہ کہ حقیقۂ قلبی شہادت کی سطح پر ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues

Printed page