صحیح طریقہ
الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۷
صحیح طریقہ
ٹائمس آف انڈیا (۲۲ اگست ۱۹۸۷) میں مسٹر کے سبرامنیم کا ایک مضمون شائع ہوا ہے اس کا عنوان ہے: ایک حقیقت جس کو مسلمان نظر انداز کرتے ہیں (A Reality Muslims Ignore) اس مضمون میں ہندوستانی مسلمانوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس ذیل میں جو باتیں کہی گئی ہیں ان میں سے ایک بات وہ ہے جو مسلمانوں کی " تہذیبی تشخص " کی تحریکوں کے بارہ میں ہے۔ مضمون نگار نے لکھا ہے کہ ایک فرقہ جو ایک وسیع تر مجموعہ، جیسے ایک قوم کا جزو ہو، وہ اپنے تشخص کو صرف دو طریقوں سے برقرار رکھ سکتا ہے۔ وہ یا تو وسیع تر مجموعہ کے علی العموم کلچر میں اپنا کوئی بہت خاص حصہ ادا کرے، یا وہ بقیہ لوگوں سے اپنے آپ کو منقطع کر لینے پر اصرار کرے ۔ اول الذکر سے یک جہتی پیدا ہوتی ہے، جب کہ ثانی الذکر تصادم کی طرف لے جاتا ہے :
A community, as a constituent of a larger entity like a nation, can sustain its identity in two ways. It can either make its own unique contribution to the overall culture of the larger entity or it can insist on cutting itself off from the rest. While the former leads to integration, the latter leads to conflict. The Times of India, New Delhi, August 22, 1987 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں "الْأَمِيْنُ" کہا جاتا تھا۔ تعمیر کعبہ کے مشہور واقعہ میں صبح کو جب لوگوں نے آپ کو کعبہ میں پایا تو وہ کہہ پڑے : : هَذَا الْأَمِينُ رَضِينَا (یہ امین ہیں، ہم ان پر راضی ہیں) آپ کا امانت دار ہونا آپ کا ایسا امتیاز بن گیا کہ مکہ میں آپ اپنی اسی صفت سے پہچانے جانے لگے۔ یہ تشخص حاصل کرنے کا صحت مندانہ طریقہ ہے۔ جو لوگ کسی سماج میں اخلاقی یا اصلاحی یا تعمیری اعتبار سے ممتاز ہو جائیں ان کو دوسروں کے درمیان ایسا تشخص حاصل ہوتا ہے جو حقیقی تشخص ہوتا ہے۔
اس کے برعکس جو لوگ اپنا تشخص اس طرح حاصل کرنا چاہیں کہ وہ ہر معاملہ میں دوسروں سے الگ ہونے کی کوشش کریں وہ لوگوں کے درمیان ایک قسم کے "اچھوت" بن کر رہ جاتے ہیں۔ ان کا تشخص موت کا تشخص ہوتا ہے نہ کہ زندگی کا تشخص ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues