حکمتِ تدریج
الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۲۸
طارق جاوید (پیدائش ۱۹۵۵) سے ملاقات ہوئی۔ وہ مہاجر قومی موومنٹ کے وائس چیئرمین ہیں۔
میں نے ان سے پوچھا کہ ”آپ کی یہ تحریک قومی تحریک ہے یا اسلامی تحریک؟ “ انھوں نے ایک لمحہ کے توقف کے بغیر کہا "نیشنلسٹ تحریک! ہم لوگوں کو اسلام کی بنیاد پر اکٹھا نہیں کر رہے ہیں، ہم صرف مسائل کی بنیاد پر لوگوں کو اکٹھا کر رہے ہیں۔ کسی نیشنلسٹ تحریک کے لئے زمین ضروری ہے اس لئے ہم نے پانچویں صوبہ (مہاجر صوبہ) کا نعرہ لگایا ہے“۔
مہاجر قومی موومنٹ میں مسٹر الطاف حسین کو ”قائد تحریک“ کی حیثیت حاصل ہے۔ مسٹر الطاف حسین کراچی یونیورسٹی میں طالب علم تھے۔ انھیں فارمیسی (بی فارما) میں داخلہ نہیں ملا۔ الطاف حسین صاحب نے اس کو مہاجر کے ساتھ امتیاز قرار دیا۔ انھوں نے ۱۱ جون 1978 کو مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (APMSO) کی بنیاد ڈالی اور دھواں دھار تحریک شروع کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی کوئی تنظیم نہیں۔ مہاجرین کا کوئی علیحدہ تشخص نہیں۔ ان کو ہر جگہ نظر انداز کیا جاتا ہے۔ وغیرہ۔ اس کے بعد یونیورسٹی میں مہاجرین کے خلاف فضا مزید خراب ہو گئی۔ الطاف حسین اور ان کے ساتھیوں پر ریوالور اور خنجر سے حملے کئے گئے یہاں تک کہ یہ حال ہو گیا کہ الطاف حسین صاحب کے لئے یونیورسٹی جانا نا ممکن ہو گیا۔ اب انھوں نے تعلیم چھوڑ دی اور ۱۷ مارچ ۱۹۸۴ء کو مہاجر قومی تحریک MQM کی بنیاد ڈالی۔
مسٹر طارق جاوید نے حالات بتاتے ہوئے کہا؛ ”پاکستان میں زندگی کے ہر شعبہ میں مہاجر کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے۔ کراچی کے اندر کوئی ویکنسی ہوتی ہے تو اس کا اشتہار اخبار میں اس طرح دیا جاتا ہے ”کراچی، حیدر آباد اور سکر کے لوگ درخواست دینے کی زحمت نہ کریں۔ “ ان الفاظ کا مطلب صرف یہ ہونا ہے کہ مہاجر لوگ درخواست نہ دیں، کیوں کہ ان تینوں شہروں کی زیادہ آبادی مہاجرین پر مشتمل ہے۔ ہر قسم کے ذمہ دارانہ منصب پر پنجابی مسلمان بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ پنجابی کے سوا کسی اور کو لینا نہیں چاہتے۔ کراچی پولیس کی بھرتی ہوتی ہے تو اس کا اشتہار کراچی کے اخبار میں نہیں دیا جاتا بلکہ لاہور کے اخبار میں دیا جاتا ہے تاکہ مہاجرین اس میں درخواست نہ دے سکیں ۔ پاکستان ایئرلائنز میں سب پنجابی بھرے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues