Suleimab Amrani Kilemile
الرسالہ، فروری ۱۹۸۸، صفحہ ۴۰
اب دوبارہ مجھے اس سرے سے اُس سرے کا سفر کرنا پڑا۔
خاتون کی اطلاع درست تھی ۔ اس نے M1 کو S1 پڑھا۔ جب کہ مرد نے M3 کو M1 پڑھ لیا۔ اس دنیا میں وہی رہنما سچا رہنما ہے جو S1 کو M1 پڑھے جو رہنما M1 کو S1 پڑھ لے وہ لوگوں کو بھٹکانے کے سوا کوئی اور خدمت انجام نہیں دے سکتا۔
گیٹ S4 پر میں نے اپنا ٹکٹ دیا تو اس نے اکانومی کلاس کا بورڈنگ کارڈ دے دیا حالانکہ میرا ٹکٹ اوپر کے درجہ کا تھا۔ دریافت کرنے پر اس نے بتایا کہ اوپر کے درجہ میں آپ کا نام ویٹنگ لسٹ میں تھا، چونکہ اس میں سیٹ خالی نہیں ہے اس لئے اگر آپ اس جہاز سے سفر کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اکانومی کلاس میں جانا ہو گا۔ میں بورڈنگ پاس لے کر انتظار گاہ میں بیٹھ گیا اور یہ سوچکر مطمئن ہو گیا کہ دونوں درجہ کے مسافر ایک ہی وقت میں منزل پر پہنچیں گے، پھر اس کے لئے پریشان ہونے کی کیا ضرورت۔
انتظار گاہ میں میرے قریب ایک اور صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ گفتگو کے بعد معلوم ہوا کہ وہ ایک جرمن انجینئر ہیں اور ٹیکنکل تعاون کے تحت ہندوستان جا رہے ہیں: Gunter Gentzsch, Ingenieur DDR-6530 Hermsdorf, Thur. Telefon: 510 ان سے گفتگو ہونے لگی۔ میں نے پوچھا کہ آپ خدا کو مانتے ہیں۔ انہوں نے کہا نہیں۔ میرے والدین خدا و مذہب کو مانتے ہیں، مگر میں نہیں مانتا۔ میں نے پوچھا پھر آپ کس چیز پر عقیدہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا عوام (People) پر۔ انہوں نے کہا کہ اصل اہمیت کی چیز انسانیت ہے نہ کہ مذہب۔ اس طرح کی گفتگو دیر تک ہوتی رہی۔
اتفاق سے ان کا کیس بھی وہی تھا جو میرا تھا۔ یعنی ان کا ٹکٹ بھی اوپر کے درجہ کا تھا مگر ریزرویشن کے وقت ان کا نام ویٹنگ لسٹ میں تھا۔ چنانچہ سیٹ نہ ہونے کی بنا پر ان کو اکانومی کلاس کا بورڈنگ پاس دیا گیا تھا۔ ہم لوگ انتظار میں بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے کہ اتنے میں ایئر انڈیا کا اطالوی نمائندہ آیا۔ اس نے کہا کہ اوپر کے درجہ میں صرف ایک سیٹ ہے ۔ اب آپ دونوں فیصلہ کر لیں۔ میں نے کہا کہ آپ (جرمن انجینئر) ہمارے ملک میں
‹ Previous page Next page › Contents of February 1988 All issues