مذہب اور سیاست
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۹، صفحہ ۹
مذہب اور سیاست
مذہب کیا ہے۔ مذہب ان روحانی قدروں اور انسانی اصولوں میں جینے کا نام ہے جن کو خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ بتایا ہے۔ مذہب کا پہلا اصول توحید ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کائنات میں صرف ایک حقیقت ایسی ہے جو سب سے اوپر ہے جو سب سے بالا ہے، اور وہ خدا ہے۔ یہ عقیدہ آدمی کے اندر تواضع پیدا کرتا ہے۔ وہ اس سے گھمنڈ کا جذبہ چھین لیتا ہے جو تمام برائیوں کی اصل جڑ ہے۔ مذہب کا دوسرا اصول مساوات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام انسان ایک ہی خدا کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ اور سب کے سب ایک ہی آدم کی اولاد ہیں۔ مذہب کا یہ اصول انسان اور انسان کے درمیان ہر قسم کی اونچ نیچ کو مٹا دیتا ہے۔ خواہ وہ دولت اور عہدہ کی وجہ سے ہو، یا رنگ اور نسل کی وجہ سے یا اور کسی وجہ سے۔ اس مذہبی عقیدہ کے مطابق تمام انسان بھائی بھائی ہیں۔ سب کو ایک مشترک خاندان کی طرح مل جل کر رہنا چاہئے۔
مذہب کا تیسرا بنیادی اصول عدل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سماجی تعلقات اور آپس کے لین دین میں ہر آدمی کو چاہئے کہ وہ دوسرے آدمی کے ساتھ برابری اور انصاف کا معاملہ کرے جس طرح ترازو ٹھیک ٹھیک تولتا ہے اسی طرح انسان کو بھی ٹھیک ٹھیک تولنا چاہئے۔ انسان کا ہر معاملہ اسی طرح درست ہونا چاہئے جس طرح ترازو کی تول بالکل درست ہوتی ہے۔ یہی مذہب کی اصل حقیقت ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مذہب درحقیقت کچھ قدروں اور کچھ پیمانوں کا نام ہے۔ وہ ایک فرد کو سوچ اور مزاج کے اعتبار سے، خاص طرح کا انسان بناتا ہے۔ ایسا انسان جو دنیا میں تواضع کی نفسیات کے ساتھ جئے، جو سچائی کے آگے جھک جائے۔ جو تمام انسانوں کو اپنا سمجھے، جس کو کوئی انسان غیر نظر نہ آئے۔ جو دوسرے انسان کے ساتھ وہی سلوک کرے جو وہ خود اپنے ساتھ چاہتا ہے۔ جو اپنے آپ کو بھی اسی پیمانہ سے ناپے جس پیمانہ سے وہ دوسروں کو ناپنا چاہتا ہے۔ اس طرح مذہب انسان کی زندگی کو جانوروں کی زندگی سے الگ کر دیتا ہے۔ جانور صرف ایک ہی بات کو جانتے ہیں۔ اور وہ ان کا فائدہ ہے۔ وہ اپنے غرض اور فائدے کے سوا کسی اور چیز سے واقف نہیں۔ مگر مذہبی انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہوتا ہے۔ مذہبی انسان کی زندگی کچھ قدروں اور کچھ اصولوں
‹ Previous page Next page › Contents of January 1989 All issues