Al-Risala · March 1989 · page 10

نظام خداوندی

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۹، صفحہ ۱۰

نظام خداوندی

گلاب کی نازک شاخ پر ایک خوبصورت پھول کھلا ہوا ہے۔ ایک شخص نے اس کو بے احتیاطی کے ساتھ توڑا۔ اس کی انگلیوں میں کانٹے لگ گئے۔ ان سے خون بہنے لگا۔ اب یہ آدمی اگر گلاب کے درخت کو یا فطرت کو الزام دے تو کیا ایسا کرنا صحیح ہوگا ۔ ہر سمجھ دار آدمی جانتا ہے کہ ایسے مواقع پر کانٹے کی شکایت کرنا بے معنی ہے۔ کیوں کہ اس دنیا کا نظام جس اصول کے تحت بنایا گیا ہے اس میں لازماً ایسا ہو گا کہ پھولوں کے ساتھ کانٹا بھی رہے۔ اس لئے آدمی کو چاہئے کہ وہ کانٹے کو ختم کرنے کی بے فائدہ کوشش نہ کرے بلکہ اپنی بے سمجھی اور نادانی کو ختم کر کے کانٹے سے بچے ۔ یہی معاملہ انسانی زندگی کا بھی ہے۔ انسانی زندگی کا نظام خدا کا بنایا ہوا ہے۔ اور خدا نے اپنی مصلحت کے تحت یہاں ”پھول“ بھی رکھے ہیں اور ”کانٹے“ بھی۔ یہاں اچھے لوگ بھی ہیں اور برے لوگ بھی ۔ یہاں فرشتے بھی ہیں اور شیطان بھی۔

اس نظام تخلیق کا تقاضا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے مخالف بنیں۔ ایک گروہ دوسرے گروہ کے خلاف سازش کرے ۔ ایک شخص دوسرے شخص کے ساتھ اشتعال انگیزی کا معاملہ کرے۔ ایسی حالت میں مسئلہ کا حل کیا ہے۔ یہ حل قرآن کے لفظوں میں، صبر اور اعراض ہے۔ یعنی آدمی انسانی کانٹوں سے بچ کر چلے۔ اور اگر اتفاق سے کوئی انسانی کانٹا اسے لگ جائے تو وہ صبر و برداشت کا طریقہ اختیار کرے نہ کہ ٹکراؤ اور مقابلہ آرائی کا۔

مشہور مثل ہے کہ ”کتے بھونکتے رہتے ہیں اور ہاتھی چلتا رہتا ہے“۔ کتا اگر کتے پر بھونکے تو دوسرا کتا بھی بھونکنے لگے گا اور اس کو کاٹنے کے لئے دوڑے گا، لیکن کتا اگر ہاتھی پر بھونکے تو ہاتھی ایسا نہیں کرتا کہ وہ بھی کتے کے اوپر بھونکنے لگے یا اس کے خلاف جوابی کارروائی کے لئے دوڑے ۔ ایسے موقع پر کتا کتا ثابت ہوتا ہے اور ہاتھی ہاتھی ۔

دنیا میں قدرت نے دو نمونے قائم کر دئے ہیں۔ ایک نمونہ کتے کا ہے اور دوسرا نمونہ ہاتھی کا۔ اب ہر آدمی کے حوصلہ کا امتحان ہے کہ وہ دونوں میں سے کس نمونہ کو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1989 All issues

Printed page