Al-Risala · March 1989 · page 14

رحم دل فاتح

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۹، صفحہ ۱۴

رحم دل فاتح

۲ اکتوبر 1174ء مسلم تاریخ کا نہایت اہم دن ہے۔ یہی وہ دن ہے جب کہ صلیبی طاقتوں کے ۸۸ سالہ قبضہ کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی دوبارہ بیت المقدس میں داخل ہوئے۔ ۱۰۹۵ء میں پوپ نے یورپی قوموں کو صلیبی جنگ پر ابھارا تا کہ " مسیح کی مقدس قبر کو مسلمانوں کے ہاتھ سے واپس لیا جاسکے ! " اس کے جواب میں یورپ کے مسیحی حکمراں جوش کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے۔ مسیحیوں اور مسلمانوں کے درمیان ہولناک لڑائیاں ہوئیں۔ یہاں تک کہ مسیحیوں نے فلسطین کے بڑے حصہ پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد فتح کے نشہ میں انھوں نے تمام انسانی قدروں کو پامال کر ڈالا۔ وہ مسلمانوں کو فلسطین سے بزور نکالنے لگے اور انھیں ہلاک کرنا شروع کیا۔

اس موضوع پر بہت سی کتابیں مختلف زبانوں میں چھپ چکی ہیں۔ حال میں ریاض کے عربی ماہنامہ الفیصل (ربیع الآخر ۱۴۰۹ھ) میں اس کے بارہ میں ایک مفید معلوماتی مضمون شائع ہوا ہے۔ یہ مضمون فرانسیسی مستشرق آلان روکو کے فرانسیسی مقالہ کا ترجمہ ہے جو مصطفیٰ کمال الجابری نے کیا ہے۔

صلاح الدین ایوبی ۲۷ نومبر ۱۱۸۷ء کو دمشق پہنچے۔ پھر وہ حلب گئے۔ جلد ہی اپنی خصوصیات کی بنا پر انھیں دمشق، حلب، قاہرہ کے حاکم کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ انھوں نے دمشق کو اپنا دار الحکومت بنایا۔ خلیفہ بغداد نے ان کو مصر اور شام کا فرماں روا تسلیم کر لیا۔ اپنی صفات کی بنا پر وہ عامۃ الناس کے محبوب بن گئے۔ ان کو سیف الاسلام کہا جانے لگا۔

صلاح الدین نے اس کے بعد اپنی فوج کو طاقتور انداز میں منظم کیا۔ اور پھر انھوں نے صلیبیوں کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا جو فلسطین پر قبضہ کیے ہوئے تھے۔ انھوں نے عہد کیا کہ وہ ارض مقدس سے صلیبی طاقتوں کو نکال کر رہیں گے ۔ اعلیٰ ترین جنگی منصوبہ ثابت کرتا ہے کہ صلاح الدین جنگی امور پر عمیق بصیرت رکھتے تھے۔ خطہ جغرافیا سے عالی المستوی واقفیت اور اپنے خاص لا احالین

‹ Previous page Next page › Contents of March 1989 All issues

Printed page