وہ پہنچا پرچم اسلام پھر ارض سمرنا میں
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۹، صفحہ ۳۹
ایسا نہیں کہا۔
بیشتر لوگ کسی بات کو اس لئے مانتے ہیں کہ ان کی مسلمہ شخصیت نے ایسا کہا ہے نہ کہ دلیل سے اس طرح ثابت ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے ان سچائی کبھی ذہنی انقلاب بن کر داخل نہیں ہوتی۔ ان کا ذہن ہمیشہ شخصیتوں کی عظمت میں گم رہتا ہے، وہ حقائق کی عظمت میں گم ہونے کا کبھی تجربہ نہیں کرتا۔ ڈاکٹر اسکندر احمد چودھری بنگلہ دیش سے تعلق رکھتے ہیں۔ آجکل وہ ٹوکیو ( جاپان ) میں مقیم ہیں۔ وہاں وہ ریڈیو میں بنگالی اناؤنسر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اسلامک کلچر سوسائٹی جاپان کے ڈائرکٹر ہیں۔
ڈاکٹر چودھری سے جاپان کے بارہ میں گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ میں نے جاپان پر 1967 سے لکھنا شروع در کیا جب کہ ہندوستان میں جاپان کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ جواہر لال نہرو اس کو اپنی ناوابستگی کی پالیسی کے خلاف سمجھتے تھے کہ وہ جاپان سے تعلق قائم کریں۔ پچھلے ۲۵ سال میں میں نے جاپان پر اتنے زیادہ مضامین لکھے ہیں کہ اگر ان کو جمع کیا جائے تو ایک پوری کتاب بن جائے۔ میں نے کہا کہ جاپان سے میری دل چسپی کا سبب ہے "حدیبیہ" کی پالیسی جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت کے میدان میں عالی شان طور پر استعمال فرمایا تھا، اس کو تاریخ میں دوسری بار جاپان نے سیکولر میدان میں استعمال کیا ہے۔
ڈاکٹر چودھری سے میں نے کہا کہ اس پالیسی کو جاپانیوں نے عمل معکوس (Reverse course) کا نام دیا تھا۔ میں نے پوچھا کہ اس کے لئے جاپانی لفظ کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس کے لئے جاپانی لفظ گیا کوتن (Gyakuten) ہے۔ ڈاکٹر چودھری سے گفتگو کے دوران میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ جاپانیوں کی خاص صفت جس کی بنا پر انھوں نے اتنی بڑی کامیابی حاصل کی ہے، وہ، ایک لفظ میں، حکم کی تابعداری کا مزاج ہے۔ (Submission to authority)
اس میں شک نہیں کہ کسی بڑی ترقی کے لئے یہ سب سے اہم صفت ہے۔ جاپانیوں میں یہ صفت آخری حد تک پائی جاتی ہے۔ وہ اپنے افسر یا حاکم کی بات کو فوراً ماننے پر راضی ہوجاتے ہیں، خواہ وہ انھیں صحیح نظر آئے یا غلط۔ یہ صفت صحابہ کرام میں بدرجہ کمال پائی جاتی تھی۔ اور یہی وجہ ہے کہ انھوں نے تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں یہ صفت انتہائی حد تک مفقود ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1989 All issues