ترکش ما را خدنگ آخریں
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۹، صفحہ ۴۱
اہمیت قیامت تک ختم ہو والی نہیں۔
پھر میں نے کہا کہ سوسائٹی سے سسٹم بنتا ہے، سسٹم سے سوسائٹی نہیں بنتی۔ پاکستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہاں کی سوسائٹی اسلام کے نظام قانون کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ایسی حالت میں پہلا کام یہ ہے کہ سوسائٹی کے اندر اس کی استعداد پیدا کی جائے ۔ یہ کام صرف تذکیر و نصیحت کے ذریعہ انجام پاتا ہے نہ کہ کوڑے مارنے اور سزائیں جاری کرنے سے۔ یہ گفتگو ۲۳ اکتوبر ۱۹۸۸ کو ہوئی۔
ہم لوگ ہوٹل کی لابی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ سامنے ایک نیچی میز تھی جس کے اوپر لکڑی کے تختے کے بجائے سفید مائل سنگ مرمر لگا ہوا تھا۔ ایک صاحب نے بتایا کہ یہ سنگ مرمر افغانستان کی خاص چیز ہے۔ اور جب لاہور میں اقبال کا مقبرہ بن رہا تھا تو اس وقت کے افغانی حکمران نے اس میں لگانے کے لئے افغانی سنگ مرمر بطور ہدیہ روانہ کیا تھا۔
ایک صاحب اقبال کے فارسی کلام سے اچھی طرح واقف تھے۔ انھوں نے اقبال کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کو حوصلہ دیا۔ اگر اقبال نہ ہوتے تو موجودہ مسلمان بے حوصلہ ہو کر رہ جاتے۔ میں نے کہا کہ اقبال نے شاعرانہ نرمی تو قوم کو ضرور دیا۔ مگر جہاں تک حوصلہ کا تعلق ہے، ان کے کلام نے برعکس کام کیا ہے۔ میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اقبال نے سلطان ٹیپو کے بارہ میں کہا کہ وہ ہماری ترکش کا آخری تیر تھا:
ترکش ما را خدنگ آخریں
اس شعر کی روشنی میں دیکھئے تو سلطان ٹیپو کی شکست (بالفاظ دیگر، مسلمانوں کی عسکری قوت کی بربادی) کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کے پاس گویا کچھ نہیں رہا۔ یہ تصور کتنی زبردست پست حوصلگی پیدا کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پھر آپ کے خیال میں اقبال کو کیا کہنا چاہئے تھا۔ میں نے کہا کہ اقبال کو کہنا چاہئے تھا کہ ٹیپو کی عسکری طاقت ختم ہو گئی تو غم کی بات نہیں۔ اسلام کی دعوتی طاقت زندہ ہے۔ تم اسلامی دعوت کو لے کر اٹھو۔ اور اس کے ذریعہ سے دنیا کو مسخر کرو۔ اقبال اگر یہ بات کہتے تو اس سے مسلمانوں کو رہنمائی ملتی۔ مگر ٹیپو کو آخری تیر کہہ کر انھوں نے مسلمانوں کو بے حوصلگی کے سوا اور کچھ نہیں دیا۔
ایک عالم سے ملاقات ہوئی۔ ان کی تعلیم پاکستان کے ایک دار العلوم میں ہوئی ہے اور اچھی اردو جانتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں الرسالہ برابر پڑھتا ہوں۔ وہ مجھے پاکستان کے ایک واقف کار کے ذریعہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 1989 All issues