Al-Risala · April 1989 · page 2

اہل بیت

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۲

اہل بیت

قرآن کی سورہ الاحزاب میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تمہارا معاملہ عام انسانوں جیسا نہیں ہے۔ تمہارے گھر وہ ہیں جہاں اللہ کی آیتوں کی اور حکمت کی تعلیم دی جاتی ہے ، اس لیے تمہیں اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنانا چاہیے۔ اس سلسلہ میں ارشاد ہوا ہے :

وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ (اے پیغمبر کی بیویو) تم اپنے گھر میں قرار سے رہو اور الأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأطِعْنَ پچھلی جاہلیت کی طرح دکھلاتی نہ پھرو۔ اور نماز قائم اللهَ وَرَسُولَهُ انَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا اطاعت کرو۔ اللہ چاہتا ہے کہ تم اہل بیت سے آلودگی ( الاحزاب ۳۳ ) کو دور کرے اور تم کو پوری طرح پاک کر دے۔

اس آیت میں اہل بیت سے مراد عام طور پر اہل بیت رسول لیا جاتا ہے۔ اور پھر یہ غیر ضروری بحث چھیڑ دی جاتی ہے کہ اس سے مراد پیغمبر کی بیویاں ہیں یا فاطمہ کی اولاد ۔ یہ بحثیں اس لیے پیدا ہوتی ہیں کہ آیت کو صرف خاندانی معنوں میں لیا گیا ہے ۔ حالاں کہ اس سے مراد محدود نسلی معنی میں صرف خاندانِ نبوت نہیں ، بلکہ وسیع تر معنی میں خاندان دعوت ہے ۔ " پیغمبر کے گھر والے " کا مطلب ، دوسرے لفظوں میں ، " داعی حق کے گھر والے " ہے۔

اس میں شک نہیں کہ آیت کے ابتدائی اور ظاہری مفہوم کے اعتبار سے یہاں اہل بیت کا مطلب اہل بیت رسول ہی ہے ۔ مگر قرآن کی ہر آیت کا ایک ظاہری مفہوم ہوتا ہے اور ایک اس کا باطنی مفہوم ( لكل آية منها ظهر وبطن ) اس اصول کے مطابق ، مذکورہ آیت میں ظاہری طور پر اگر چہ اہل بیت رسول کا ذکر ہے ؛ مگر حقیقت کے اعتبار سے یہاں یہ بتایا جا رہا ہے کہ جو شخص لوگوں کے درمیان حق کا داعی بن کر کھڑا ہو، اس کے گھر کا طرزِ زندگی (Life-style) دوسروں سے مختلف ہونا چاہیے ۔ اگر اس کا طرزِ زندگی دوسروں سے ممتاز نہ ہو تو لوگ اس کے دعوتی امتیاز کو بھی نہ سمجھ سکیں گے ۔ وہ لوگوں کے درمیان داعی کا مقام حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues

Printed page