Al-Risala · April 1989 · page 4

غریبی کا سبب

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۴

غریبی کا سبب

ٹائمس آف انڈیا نے سوسائٹی کے نام سے ایک ضمیمہ (نومبر ۔ دسمبر ۱۹۸۸) شائع کیا ہے۔ اس میں ٹائمس آف انڈیا (۴ دسمبر ۱۸۸۰) کی ایک خبر نقل کی گئی ہے۔ اس وقت ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت تھی۔ ایک انگریز افسر ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر (W. W. Hunter) نے لندن میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہندوستان ایک بنیادی مسئلہ سے دوچار ہے۔ اور وہ عوام کی غربت (Poverty of the people) کا مسئلہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہندوستان جو کسی وقت اتنا زیادہ دولت مند ملک سمجھا جاتا تھا، اب وہ اتنا غریب کیوں ہو گیا : How comes it that India was once held to be so rich and now proves to be so poor? (p. 34). تاریخ بتاتی ہے کہ ہندوستان، مسلم حکومت کے دور میں نہایت خوش حال تھا۔ انگریزی حکومت کے دور میں پہلی بار وہ غریب ہوا، اور آزادی کے بعد ملکی حکومت کے زمانہ میں بھی وہ غریب ہے، بلکہ اب اس کی غربت میں ہمیشہ سے زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ قدیم مسلم حکمرانوں نے ملک سے جو دولت حاصل کی۔ اس کو انھوں نے ملک کے اندر ہی خرچ کیا۔ اس طرح دولت کی گردش ملک کے اندر ہوتی رہی۔ انگریزوں نے یہ کیا کہ ملک کی دولت کو یہاں سے نکال کر انگلینڈ لے گئے۔ اس طرح دولت کی گردش اندر سے باہر کی طرف ہونے لگی۔ یہی اصل وجہ تھی جس کی بنا پر ہندوستان مسلم عہد میں خوش حال تھا اور انگریزی عہد میں وہ بدحال ہو گیا۔ دولت کی الٹی گردش کا یہی عمل ”آزاد ہندوستان“ میں بھی بہت بڑے پیمانہ پر جاری ہے۔ ہندوستان کے دیسی حکمراں اور یہاں کے بڑے بڑے تاجر اور صنعت کار مختلف طریقوں سے ملک کی دولت باہر لے جاکر یورپ اور امریکہ کے بنکوں میں جمع کر رہے ہیں، اسی کے ساتھ اسمگلنگ کا کاروبار جو موجودہ ہندوستان کا سب سے بڑا کاروبار ہے، وہ ملک کی بے شمار دولت کو بیرونی ملکوں میں پہنچارہا ہے ۔ اس طرح جو دولت باہر جارہی ہے وہ اتنی زیادہ ہے کہ انگریزوں نے اپنے دور حکومت میں کبھی شاید اتنی زیادہ دولت باہر نہیں بھیجی۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues

Printed page