Al-Risala · April 1989 · page 38

He must at once jump into the 5th gear.

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۳۸

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک واقعہ صحیح ہونے کے باوجود اس کی توجیہہ حد درجہ غلط ہوسکتی ہے۔ مذکورہ مثال میں ایک واقعہ جس کے ذمہ دار حقیقتہ ایرانی تھے، اس کو ایک شخص نے غلط طور پر سعودی عرب کی طرف منسوب کر دیا۔ اسی لیے حکم دیا گیا ہے کہ کسی کے خلاف کوئی بیان دینے سے پہلے اس کے بارہ میں مکمل تحقیق کرو۔

۴ نومبر کو مجھے فجر سے پہلے واپس روانہ ہونا تھا تاکہ میں وقت پر ہوائی اڈہ پہنچ کر ساڑھے پانچ بجے کے جہاز کو پکڑ سکوں۔ ہوٹل کے استقبالیہ میں شام کو میں نے لکھوا دیا کہ صبح ۳ بجے مجھے جگا دیا جائے۔ رات کو میں سو رہا تھا کہ ٹھیک وقت پر ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ یہ ہوٹل والوں کی طرف سے ویک اپ کال (Wake-up call) تھی ۔ گویا کہ آواز دینے والا کہہ رہا تھا کہ اٹھ جاؤ۔ اب سونے کا وقت ختم ہو گیا ۔ مجھے محسوس ہوا کہ صور اسرافیل بھی اسی قسم کا ایک ویک اپ کال ہوگا۔ آج تمام لوگ سورہے ہیں۔ کسی کو آنے والے دن کا احساس نہیں۔ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ اسرافیل کا صور گونج اٹھے۔ کیسی عجیب ہوگی یہ خدائی پکار، اور کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو اس خدائی پکار سے غافل ہو کر بے خبر سو رہے ہیں۔

میں سفر میں ہمیشہ مختصر سامان رکھتا ہوں۔ عام طور پر صرف ایک چھوٹا ہینڈ بیگ میرے ساتھ ہوتا ہے۔ صنعاءء سے ۴ نومبر کی صبح کو ہوٹل سے نکلا تو ہمارے یمنی گائیڈ نے پوچھا آپ کا سامان ۔ میں نے اپنے ہاتھ کا بیگ دکھاتے ہوئے کہا کہ بس یہی میرا سامان ہے ، اس کے سوا اور میرا کوئی گیج نہیں۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا: افلح من خف متاعه (وہ شخص کامیاب رہا جس کا سامان کم ہو )

یہ گویا اسلامی تہذیب کا کلمہ تھا جو ان کی زبان سے نکلا۔ جزیرہ عرب پر اسلام کے اثرات اتنے گہرے ہیں کہ عربوں کی زبان اور ان کے انداز میں ابھی تک اس کے نشانات واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عربوں کا باہمی اختلاف اگر کسی طرح ختم ہو جائے تو اس کے بعد ان کے پاس جو کچھ بچے گا وہ وہی اسلامی تہذیب ہوگی جو چودہ سو سال پہلے پیغمبر عربی کے ذریعہ انھیں ملی تھی۔

صنعا سے کراچی کا سفر پاکستان ایرلائنس کی فلائٹ ۷۴۶ کے ذریعہ ہوا۔ راستہ میں

‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues

Printed page