دو انسان
الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۲
دو انسان
غزوہ احد (۳ھ) میں مسلمانوں کو اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں شکست ہوئی۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو گئے ۔ مسلمانوں میں بہت سے لوگ زخمی یا شہید ہو گیے۔ جنگ کے خاتمہ پر مشرکین کا سردار ایک ٹیلہ پر کھڑا ہوا اور فاتحانہ جذبہ کے تحت بلند آواز سے پکار کر کہا: لنا عزّیٰ ولا عُزّیٰ لکم (ہمارے پاس عزّیٰ ہے اور تمہارے پاس کوئی عزّیٰ نہیں)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر مسلمانوں نے جواب دیتے ہوئے کہا: اللہ مولانا ولا مولیٰ لکم (اللہ ہمارا مددگار ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں) ان دونوں فقروں کی نفسیات پر غور کیجیے۔ مشرکین کا فقرہ فخر کی نفسیات سے نکلا ہوا فقرہ ہے۔ اس کے برعکس اہل ایمان کا فقرہ عبدیت کی نفسیات سے نکلا ہوا فقرہ ۔ مشرک اپنے اکابر کو بت بنا کر انھیں پوجتے ہیں۔ وہ فخر کی نفسیات میں جینے والے لوگ ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں مومن اللہ رب العالمین کو اپنا معبود بناتا ہے، وہ اس کے آگے جھک کر اس کے بڑے ہونے کا اور اپنے چھوٹے ہونے کا اقرار کرتا ہے۔ یہ چیز مومن کو تواضع کی نفسیات میں جینے والا انسان بنا دیتی ہے۔ یہی نفسیاتی فرق وہ سب سے بڑی پہچان ہے جو اہل حق اور اہل باطل کو ایک دوسرے سے الگ کرتی ہے ۔ اہل حق عین اپنے مزاج کے تحت فخر اور ناز کے جذبات سے خالی ہوتے ہیں۔ انھیں تواضع میں لذت ملتی ہے ۔ اپنے کو غیر نمایاں کرنا ان کے لیے خوشی کا باعث ہوتا ہے۔ ان کا بولنا آہستگی کا بولتا ہوتا ہے۔ ان کی ہر روش میں نرمی اور اعتدال کا انداز پایا جاتا ہے۔ وہ سب کچھ اللہ کو سمجھتے ہیں، اور اپنے آپ کو بے کچھ کے مقام پر بیٹھا کر راضی ہوجاتے ہیں۔ اہل باطل کا مزاج اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ وہ فخر اور گھمنڈ کے جذبات میں جیتے ہیں۔ وہ شہرت اور سرداری کے مقام پر بیٹھ کر خوش ہوتے ہیں۔ وہ جب بولتے ہیں تو ان کا ہر بول انانیت سے بھرا ہوا ہوتا ہے ۔ وہ چلتے ہیں تو ان کا چلنا ناز کا چلنا ہوتا ہے۔ وہ سب کچھ اپنے آپ کو سمجھتے ہیں، وہ صرف اس وقت مطمئن ہوتے ہیں جب کہ اپنے آپ کو سب سے اونچی کرسی پر بٹھانے میں کامیاب ہو جائیں۔
شرک کی نفسیات سے فخر پیدا ہوتا ہے اور توحید کی نفسیات سے تواضع اور عبدیت۔