غور طلب
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۹، صفحہ ۲۱
غور طلب
یونانی مائتھالوجی میں ایک لعنت زدہ بادشاہ ہے جس کا نام سیسیفس (Sisyphus) ہے۔ اس کو دیوتاؤں نے یہ سزا دی کہ وہ ایک بھاری پتھر کو لے کر پہاڑ پر چڑھے اور اس کو آخری چوٹی پر پہنچائے۔ وہ پتھر کو لے کر پہاڑ پر چڑھتا ہے۔ مگر اس پر ایک مزید لعنت ہے۔ چنانچہ جب وہ چوٹی کے قریب پہنچتا ہے تو پتھر اس سے چھوٹ کر نیچے کی طرف لڑھک پڑتا ہے۔ بادشاہ دوبارہ نیچے اترتا ہے اور دوبارہ پتھر کو لے کر اوپر چڑھنا شروع کرتا ہے۔ مگر دوبارہ ایسا ہوتا ہے کہ جب وہ پہاڑ کی چوٹی کے قریب پہنچتا ہے تو پتھر اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر جاتا ہے۔ یہی صورت بار بار پیش آتی ہے اور بادشاہ کبھی پتھر کو لے کر چوٹی تک نہیں پہنچ پاتا۔ اس بنا پر اس کی لعنت بھی اس سے رفع نہیں ہوتی:
"بالاکوٹ کے معرکہ" کے بارے میں ایک مسلمان مصنف لکھتے ہیں کہ "اس معرکہ میں وہ پاک نفوس شہید ہوئے جو عالم انسانیت کے لیے رونق تھے۔ انسانیت اور اسلام کے باغ کا ایسا عطر مجموعہ صدیوں سے تیار نہیں ہوا تھا، اور جو ساری دنیا کو معطر کرنے کے لیے کافی تھا۔ ۲۴ ذوالقعدہ ۱۲۴۶ کو وہ بالاکوٹ کی مٹی میں مل گیا۔ مسلمانوں کی نئی تاریخ بنتے بنتے رہ گئی۔ " موجودہ زمانہ میں جو بڑی بڑی مسلم تحریکیں اٹھیں، ان کے احوال پڑھیے تو تقریباً بلا استثناء ہر ایک کے یہاں یہی لکھا ہوا ملے گا کہ ہم تو کامیابی کی چوٹی کے بالکل قریب پہنچ گئے تھے۔ مگر عین وقت پر فلاں شخص کی سازش نے سارا معاملہ بگاڑ دیا اور کفر و الحاد کا قلعہ فتح ہوتے ہوتے رہ گیا۔ ان تحریکوں کا یہ بیان ایک قاری کو اس شبہ میں ڈالتا ہے کہ کہیں موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈروں کا معاملہ وہ تو نہیں جو یونانی دیو مالا میں سیسیفس کا بتایا گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1989 All issues