Al-Risala · January 1989 · page 23

ابی مذہبیت

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۹، صفحہ ۲۳

ابی مذہبیت

مئی ۱۹۲۶ء کا واقعہ ہے۔ لاہور کے شاہ عالمی دروازہ کے باہر ہندوؤں نے ایک مندر تعمیر کیا۔ یہ دیکھ کر مسلمانوں کے اندر یہ جذبہ جاگ اٹھا کہ مندر کے ساتھ مسجد بھی ہونا چاہئے۔ جس فضا میں مندر کے کلس چمک رہے ہیں وہاں مسجد کے مینار کی عظمت بھی دکھائی دینا ضروری ہے۔ چنانچہ فوراً چندہ ہوا اور مندر کے پاس ایک زمین مسجد کے لئے حاصل کی گئی۔ نمازِ عشاء کے بعد اس مسجد کی تعمیر شروع ہوئی۔ ساری رات کام ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ جب صبح ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ مندر کے مقابلہ میں ایک مسجد بنی ہوئی کھڑی ہے۔ یہ وہ واقعہ ہے جس سے متاثر ہو کر ڈاکٹر محمد اقبال نے اپنا یہ مشہور شعر کہا تھا: مسجد تو بنا لی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا یہ ایک علامتی واقعہ ہے جو موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی بیشتر سرگرمیوں پر چسپاں ہوتا ہے، جو موجودہ زمانہ میں ہماری اکثر دینی سرگرمیاں حقیقتاً جوابی سرگرمیاں ہیں۔ ان کا اصل محرک کسی غیر قوم کا کوئی عمل ہے، نہ کہ حقیقتہً خدا اور رسول کا حکم۔

اس قسم کی مذہبیت جوابی مذہبیت ہے۔ وہ قومی محرک کے تحت پیدا ہوتی ہے نہ کہ خدائی محرک کے تحت۔ چنانچہ مسلمانوں نے مادی اور جغرافی اور سیاسی اسباب کے تحت دیگر اقوام کو اپنا حریف سمجھ لیا ہے۔ وہ ان کو نیچا دکھا کر اپنے لئے قومی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ ایسی تمام کارروائیاں بلاشبہ قومی کارروائیاں ہیں، خواہ بظاہر ان کو مذہب کے لباس میں کیوں نہ پیش کیا گیا ہو۔

مومن وہ ہے جو خدا سے ڈرے، جس کی تمام سرگرمیاں خدا کے زیرِ اثر انجام پاتی ہوں۔ اس کا رُکنا خدا کے لئے ہوتا ہو اور ٹھہرنا خدا کے لئے۔ جو کام اس طرح کے جذبات کے ساتھ کیا جائے اُس کے ساتھ خدا کی مدد شامل رہتی ہے۔ وہ مفید نتائج پیدا کرتا ہے۔ مگر جو کام دوسری قوموں کی ضد میں کیا جائے اس سے صرف نفرت اور مکش کش بڑھے گی۔ اس کا نتیجہ صرف یہ ہو گا کہ صورت حال مزید پیچیدہ ہوتی چلی جائے اور کبھی وہ حسن خاتمہ تک نہ پہنچے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1989 All issues

Printed page