قابلِ غور
الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۲
قابلِ غور
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو بگاڑنے اور آپ کی تعلیمات کو مسخ کرنے کی کوشش آپ کے ہم عصر یہودیوں نے شروع کی جو اس وقت عرب میں آباد تھے۔ پھر صلیبی جنگوں کے بعد یورپ کے مسیحی علماء اور مستشرقین نے صدیوں تک اسے پوری قوت کے ساتھ جاری رکھا۔ موجودہ زمانہ میں ہندوستان کے سلمان رشدی اور ان کے جیسے دوسرے لوگ یہی نازیبا کام جدید ترین ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے انجام دے رہے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اس معاملہ میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کے لیے کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ وہ غصہ اور جھنجھلاہٹ کا اظہار کریں۔ وہ ایسی کتابوں کے خلاف ایجی ٹیشن اور ہنگامہ شروع کردیں۔ اب تک مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے عملاً بس اسی قسم کا ردِ عمل ظاہر کرتے رہے ہیں۔ مگر اس واقعہ کا ایک اور پہلو ہے جو اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اور بدقسمتی سے مسلمان اپنے منفی جوش کی وجہ سے اب تک اس دوسرے پہلو سے آگاہ نہ ہو سکے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ ساتویں صدی عیسوی کے کعب بن اشرف سے لے کر بیسویں صدی کے سلمان رشدی تک بے شمار لوگ مسلسل اس معاندانہ کوشش میں مصروف رہے ہیں کہ وہ آپ کی تصویر کو داغدار کریں۔ اس مخالفانہ عمل پر جلد ہی ڈیڑھ ہزار سال پورے ہو جائیں گے۔ مگر ان دشمنانِ رسول کو اپنے مقصد میں ایک فی صد کامیابی بھی حاصل نہ ہوسکی۔ ان کی ساری کوششیں عملاً کامل طور پر بے نتیجہ رہیں۔
دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ اسی قسم کی نازیبا کوششیں پچھلے پیغمبروں کے خلاف بھی کی گئیں مگر یہاں نتیجہ بالکل مختلف رہا۔ یہاں ان کے دشمنوں کو اپنے مقصد میں پوری کامیابی حاصل ہوئی۔ سابق پیغمبروں کے دشمنوں نے ان کی سیرت اور ان کی تعلیمات کو بگاڑنا یا معدوم کر دینا چاہا۔ اور عملاً بگاڑ دیا یا معدوم کر ڈالا۔ حضرت نوح سے لے کر حضرت مسیح تک ہر پیغمبر کے خلاف انھوں نے اپنی تحریفی کوشش کی اور ہر بار وہ اپنی کوشش میں پوری طرح کامیاب رہے۔
انسانی تاریخ کا جو مدون ریکارڈ ہے، اس میں پچھلے تمام پیغمبروں کو حذف کر دیا گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues