Al-Risala · June 1989 · page 29

اسلام قبول کرنے کے بعد

الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۲۹

استعمال ہونے لگا۔ اس کے بعد ٹیلی گرام ، ٹیلی فون اور فیکس کے طریقے دریافت ہوئے۔ اب ٹیلكس کے طریقے نے سب پر برتری حاصل کرلی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کتنی زیادہ نعمتیں انسان کو دے رکھی ہیں، مگر کتنے کم لوگ ہیں جو اس کے واقعی شکر ادا کر تے ہوں۔ دہلی کا انٹرنیشنل ایرپورٹ ہے۔ انتظار گاہ میں بہت سے ملکی اور غیر ملکی مسافر دروازہ کھلنے کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ کچھ ہندوستانیوں نے ہندوستانی ہوائی اڈوں پر تبصرہ شروع کیا۔ ایک شخص نے کہا کہ میں نے فلاں فلاں ملکوں کے ہوائی اڈے دیکھے ہیں ، ان کے مقابلے میں ہندوستانی ہوائی اڈے بالکل پسماندہ نظر آتے ہیں۔ قریب کی کرسی پر ایک جاپانی مسافر بیٹھا ہوا ان کی پر جوش باتیں سن رہا تھا۔ آخر میں وہی نہایت آہستگی کے ساتھ بولا : دوستو! کی ملک کا ہوائی اڈہ ویسا ہی ہوتا ہے جس کا وہ تحمل کر سکتا ہو اور جس کا وہ مستحق ہو ، نہ اس سے زیادہ اور نہ اس سے کم :

Friends, a country gets the airports it can afford — and deserves. No more, no less. جاپانی کا یہ تبصرہ سن کر اکثر لوگ چپ ہو گئے۔ تاہم ایک شخص بولا : جناب عالی ، اصل بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں سیاسی داداؤں (Political dadas) کسی حکومت ہے ۔ اور جب تک یہ صورت حال قائم ہے ، ہمارے ملک میں کوئی ترقی نہیں ہو سکتی۔ دہلی سے پین ایم (Pan Am) کی فلائٹ نمبر ۷ کے ذریعے روانگی ہوئی ۔ ۲۱ دسمبر ۱۹۸۸ کو صبح چار بجے کا وقت تھا کہ جہاز اپنا پر پھیلائے ہوئے رن وے پر دوڑا، اور پھر اوپر اٹھ کر پرواز کرنے لگا۔ یہ عین وہ انداز تھا جو کسی بڑی چڑیا کا انداز پرواز کا وقت ہوتا ہے۔ ہوائی جہاز بھی عین اسی اصول کے تحت اڑتا ہے جس طرح کوئی چڑیا اڑتی ہے۔

ہوائی جہاز کیا ہے۔ ہوائی جہاز در اصل چڑیا کی مشینی نقل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہوائی جہاز کا پہلا کامیاب ماڈل وہ ہے جو نیچر (قدرت) نے تیار کیا۔ اب اگر ہوائی جہاز کی نقل تیار کرنے کے لیے ذہانت درکار ہے تو ہوائی جہاز کی اصل بنانے کا کام کیا ذہانت کے بغیر انجام پا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہوائی جہاز ، دوسری بے شمار

‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues

Printed page