Al-Risala · July 1989 · page 4

ہزار میل کا سفر

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۹، صفحہ ۴

ہزار میل کا سفر

چینی زبان میں ایک مثل ہے کہ ”ہزار میل کا سفر ایک قدم سے شروع ہوتا ہے“۔ یعنی کسی شخص کو ہزار میل دور جانا ہو تب بھی پہلے قدم ہی سے اس کے سفر کا آغاز ہوگا۔ ایک ایک قدم چل کر ہی وہ اپنی منزل پر پہنچے گا۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ پاؤں اٹھاتے ہی وہ پہلا قدم اپنی آخری منزل پر رکھ دے۔

یہ زندگی کی ایک عام حقیقت ہے۔ اس کا تعلق فرد سے بھی ہے اور قوم سے بھی۔ ایک فرد کا سفر بھی اسی اصول پر عمل کرکے کامیاب ہوتا ہے اور ایک قوم کا سفر بھی۔

اگر آپ ایک لاکھ روپیہ کمانا چاہتے ہیں تب بھی ابتدا آپ کو ایک ایک روپیہ کی کمائی پر قناعت کرتے ہوئے ایک لاکھ کی کمائی تک پہنچنا ہوگا۔ اگر آپ ماسٹر ڈگری لینا چاہتے ہیں تو ابتدائی درجات میں محنت کرکے ماسٹر ڈگری کے قابل بننا ہوگا۔ اگر آپ مصنف بننا چاہتے ہیں تو مطالعہ اور تحقیق کے لمبے مرحلہ سے گزرنے کے بعد مصنف کے مقام کو پانا ہوگا۔ اگر آپ اپنے لیے ایک اونچا مکان دیکھنا چاہتے ہیں تو بنیاد اور دیوار کی تعمیر کرنے کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ آپ اپنے لیے ایک اونچا مکان کھڑا کرسکیں۔

ٹھیک یہی معاملہ قومی تعمیر کا بھی ہے۔ قومی تعمیر ”تاریخ ساز“ تقریروں سے نہیں ہوتی، بلکہ تاریخ ساز عمل سے ہوتی ہے۔ ملت کا مستحکم قلعہ مستحکم پتھروں سے بنتا ہے نہ کہ لفظی خطابت اور شاعرانہ خیال آرائی کا کمال دکھانے سے۔

موجودہ زمانہ میں جو مسلم رہنما اٹھے، ہر ایک نے کسی نہ کسی ”مجاہدانہ اقدام سے اپنے کام کا آغاز کیا۔ حالانکہ صحیح طریقہ یہ تھا کہ وہ شعور کی اصلاح اور ذہن کی بیداری سے اپنے کام کا آغاز کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ پرشور ہنگاموں کے باوجود اب تک کوئی نتیجہ خیز کام نہ ہوسکا۔ تعمیر ملت کا کام فکری تعمیر اور ذہنی اصلاح سے شروع ہوتا ہے ، اس کو عملی اقدام (بالفاظ دیگر چھلانگ) سے شروع نہیں کیا جاسکتا۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ ان کے رہنماؤں کی یہی مجرمانہ غفلت ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1989 All issues

Printed page