پہلا کام
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۹، صفحہ ۱۵
یہ کوئی انکشاف کی بات نہیں۔ ہر وہ شخص جو مسلمانوں کی جدید تعلیم یافتہ نسل سے واقف ہے، وہ اس بات کو بخوبی جانتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ "رشتی" ہمارے درمیان ایک نہیں، بلکہ کمزوروں کی تعداد میں ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کی "رشدیت" ظاہر ہوچکی ہے اور کسی کی اب تک چھپی ہوئی ہے۔
مسلم نسل کی یہ صورت حال موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کے لیے ایک زبردست چیلنج ہے۔ اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ جدید سائنٹفک اسلوب اور وقت کی ترقی یافتہ زبانوں میں اعلیٰ معیار کا اسلامی لٹریچر تیار کر کے شائع کیا جائے تاکہ " ارتداد ذہنی" میں مبتلا ہونے والے ان بے شمار مسلمانوں کی بے یقینی کو دوبارہ یقین میں تبدیل کیا جاسکے۔ ان کو بے عقیدگی کے دلدل سے نکال کر دوبارہ عقیدہ کی صالح زمین پر کھڑا کیا جائے۔
مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں میں سے کوئی ایک شخص بھی نہیں جو اس کام کو موثر اسلوب اور مطلوبہ معیار پر انجام دے رہا ہو۔ اپنے دعویٰ کے مطابق بہت سے لوگوں نے عصری کتا بیں چھاپ رکھی ہیں مگر یہ نام نہاد عصری کتا بیں عصری کوڑا خانہ سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔
راقم الحروف نے الرسالہ جولائی، ۱۹۸۰ء میں ایک مضمون شائع کیا تھا جس کا عنوان تھا " دور جدید کی تحریکیں"، اس مضمون میں جدید لٹریچر کی اہمیت کو بتاتے ہوئے کہا گیا تھا کہ جدید لٹریچر دور جدید میں اسلام کے احیاء کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ مگر کتابوں کے اُن گنت انبار کے باوجود یہ ضرورت ابھی تک غیر تکمیل شدہ حالت میں پڑی ہوئی ہے، حتیٰ کہ لوگوں کے اندر اس کا حقیقی شعور بھی موجود نہیں۔
میں نے مزید لکھا تھا کہ میں اُردو، عربی، فارسی اور انگریزی میں اپنے چالیس سالہ مطالعہ کی بنا پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ موجودہ زمانہ کے مسلم رہ نما کوئی ایک بھی ایسی قابلِ ذکر کتاب وجود میں نہ لاسکے جو جدید سائنٹفک اسلوب اور وقت کے فکری مستویٰ پر اسلامی تعلیمات کو پیش کرنے والی ہو۔ اگر بالفرض کسی صاحب کو اصرار ہو کہ ایسی کتابیں لکھی جاچکی ہیں تو میں ان سے گزارش کروں گا کہ وہ ایسی صرف ایک کتاب راقم الحروف کے پتہ پر روانہ فرمائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1989 All issues