سفر امریکہ۔ ۲
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۹، صفحہ ۲۷
حصہ میں چیزوں کا جو معیار ہے ، وہی آپ کو پورے ملک میں نظر آئے گا ۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ اگر آپ نے امریکہ کے ایک شہر کو دیکھا ہو تو آپ نے تمام شہروں کو دیکھ لیا :
If you have seen one city, you have seen them all. اس ماحول کا نتیجہ یہ ہے کہ یہاں جو اسلامی کام ہو رہے ہیں ، وہ بھی ، کم از کم ظاہر کے اعتبار سے ، جدید معیار کے مطابق ہیں۔ ہندوستان میں ہمارے بزرگوں نے دعوت کا کام زیادہ تر پست طبقات میں کیا ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہاں اسلام کا معیار بھی پست ہو گیا۔ امریکہ میں عمومی طور پر پست و بلند کا یہ فرق نہیں ہے ، اس لیے یہاں اسلام کا کام کرنے والوں کو بھی اپنا معیار بلند رکھنا پڑتا ہے، ورنہ یہاں کے ماحول میں وہ بے قیمت ہو کر رہ جائیں۔
امریکہ میں بڑی تعداد میں ایسے مراکز قائم ہیں جن کو یہاں کی اصطلاح میں " اسلامک سنٹر کہا جاتا ہے ۔ ہندوستانی اصطلاح میں ان کو وسیع تر مسجد کہہ سکتے ہیں ۔ کیوں کہ یہاں مرکزی طور پر ایک مسجد ہوتی ہے اور اسی کے ساتھ دوسرے تعلیمی اور ثقافتی شعبے بھی ۔ یہ مراکز یہاں کے مسلمانوں کے لیے نقطہ اتحاد یا اجتماعی شیرازہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اس قسم کے ایک مرکز کے بارہ میں معلوم ہوا کہ وہاں کے وابستہ مسلمانوں میں کافی اختلاف پایا جاتا ہے ۔ وہاں میں نے لوگوں کے اجتماع میں ایک تقریر کی ۔ اس میں میں نے بتایا کہ اتحاد کی واحد قیمت اختلاف کو برداشت کرنا ہے۔ اختلاف کے باوجود متحد ہونے ہی کا دوسرا نام اتحاد ہے۔ اس سلسلہ میں صحابہ کرام کی بہت سی مثالیں دیں (اس تقریر کا ٹیپ مرکز میں موجود ہے) تقریر کے بعد بعض اعلی تعلیم یافتہ افراد مجھ سے ملے۔ انھوں نے کہا کہ ” اختلاف کے باوجود اتحاد " کا یہ نظریہ ابھی تک ہم کو بتایا ہی نہیں گیا۔ حالاں کہ اس معاملہ میں اہم ترین بات یہی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ خواہ مشرق کے مسلمان ہوں یا مغرب کے مسلمان ، سب کی واحد کمی یہ ہے کہ ان میں حقیقی شعور موجود نہیں ۔ ہمارے علماء اور قائدین خود ہی بے شعوری کا شکار ہیں ، پھر وہ دوسروں کو کس طرح شعور دے سکتے ہیں۔
اسلامک سوسائٹی ڈارنج کاونٹی) کے علاقہ میں تقریباً سو ہزار مسلمان رہتے ہیں۔ تاہم ان میں بمشکل دس فیصد ایسے مسلمان ہوں گے جو اسلامک سوسائٹی سے وابستہ ہوں۔ میں نے سوسائٹی
‹ Previous page Next page › Contents of July 1989 All issues