Al-Risala · July 1989 · page 29

Minority is a state of mind.

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۹، صفحہ ۲۹

The hardest working people in any society are the immigrants. امریکہ جیسے ملک میں جو حیثیت مہاجر کی ہے، وہی ہندوستان جیسے ملک میں اقلیتی فرقہ کی ہے۔ ایک اعتبار سے، دونوں ہی اقلیت کا کیس ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ امریکہ کی اقلیت، زیادہ محنت کے ذریعہ اپنے کامیاب مستقبل کی تعمیر کر رہی ہے، اور ہندوستان کی اقلیت " محنت کے راستہ کو چھوڑ کر احتجاج اور مطالبہ کا ناکام راستہ اختیار کیے ہوئے ہے۔

اس فرق پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ امریکہ جیسے ملکوں کی " اقلیتیں " اپنی فطرت پر ہیں۔ یہ فطرت کا سکھایا ہوا سبق ہے کہ جہاں کم مواقع ہوں، وہاں زیادہ محنت کرو۔ چنانچہ یہ لوگ فطرت کے زیر اثر ایسا کرتے ہیں کہ محنت کی زیادتی سے مواقع کی کمی کی تلافی کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس ہندوستان جیسے ملکوں میں فطرت اور انسان کے درمیان ایک مصنوعی پردہ حائل ہو گیا ہے۔ یہ نام نہاد لیڈروں کا پردہ ہے۔ لیڈروں نے مسلسل جھوٹا سبق پڑھا کر یہاں کے انسان کو فطرت کے راستہ سے ہٹا دیا ہے۔ ہندوستان کی اقلیت کو اگر اس کے اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا ہوتا تو وہ بھی اپنی فطرت کے زور پر وہی طریقہ اختیار کر لیتی جو امریکہ کی اقلیت نے اختیار کیا۔

امریکی اقلیت کی خوش قسمتی یہ ہے کہ اس کی رہنما خدائی فطرت ہے، ہندوستانی اقلیت کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کے رہنما جھوٹے انسانی لیڈر ہیں۔ انھیں دو لفظوں میں دونوں ملکوں کی اقلیتوں کے فرق کا راز چھپا ہوا ہے۔

امریکہ کی آبادی ڈھائی سو ملین (۲۵ کروڑ) ہے۔ اس میں چھ ملین یہودی ہیں۔ کل آبادی کا تین فی صد۔ اس اعتبار سے وہ یہاں کی ایک بہت چھوٹی اقلیت ہیں۔ مگر امریکی یہودی اپنے کو اقلیت نہیں سمجھتے۔ امریکی نظریہ کے مطابق، وہ مختلف مگر برابر (Different but equal) کے اصول کو مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اقلیت محض کوئی عددی معاملہ نہیں۔ وہ دراصل ایک ذہنی حالت کا نام ہے :

Minority is a state of mind.

‹ Previous page Next page › Contents of July 1989 All issues

Printed page